کیا حزب اللہ کے نئے سربراہ لبنان چھوڑ کر مستقل ایران منتقل ہوگئے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عالمی میڈیا

اسرائیلی حملے میں حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد ان کی جگہ حزب اللہ کے عبوری سربراہ بننے والے نعیم قاسم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ لبنان چھوڑ گئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ نعیم قاسم اسرائیلی کارروائیوں کے باعث حفاظتی حکمت عملی کے تحت لبنان سے ایران منتقل ہوگئے۔ نعیم قاسم 1953 میں پیدا ہوئے اور زمانہ طالب علمی میں مسلم اسٹوڈینٹس کی جماعت بنائی۔ بعد ازاں شیعہ امل موومنٹ میں شمولیت اختیار کی۔

ایران میں خمینی انقلاب کے بعد انھوں نے امل موومنٹ چھوڑ دی اور 1979 میں حزب اللہ کی تشکیل کے لیے اہم کردار ادا کیا جو 1982 میں معرض وجود میں آئی۔

بعد ازاں وہ 1991 میں حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بنے اور تاحال اس عہدے پر فائز ہیں۔ یہ عہدہ سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے بعد سب سے بڑا عہدہ ہے۔

70 سالہ نعیم قاسم حزب اللہ کے سب سے زیادہ عوامی مقامات میں دکھائی دینے والے رہنما ہیں جو ان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حسن نصر اللہ کے بعد انھیں حزب اللہ کا عبوری سربراہ مقرر کیا گیا جو مستقل سربراہ کے انتخاب تک خدمات انجام دیتے رہیں۔

حزب اللہ کے نئے مستقل سربراہ کے انتخاب کے امیدواروں میں سے ایک کو اسرائیل نے قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کے بعد  نعیم قاسم کو حفاظت کے پیش نظر ایران نے لبنان سے بلالیا ہے۔

Related Posts