بشریٰ بی بی 9 ماہ بعد اڈیالہ جیل سے رہا، عمران خان کی رہائی کب تک متوقع؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Unusual rituals began after Bushra Bibi joined Imran Khan’s household: The Economist
ONLINE

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی، جمعرات کے روز اڈیالہ جیل سے رہا ہو گئیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک روز قبل انہیں توشہ خانہ کیس میں ضمانت دی تھی۔عدالتی عملہ ان کی رہائی کے احکامات کے ساتھ اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 پر پہنچا اور جیل کے احاطے میں داخلے کے لیے ضروری کارروائی مکمل ہونے کا انتظار کیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 24 گھنٹے کی تاخیر کے بعد رہائی کے احکامات جاری کیے۔ اس تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ جب ہائیکورٹ نے ان کی رہائی کا حکم دیا، تو سینئر اسپیشل جج سینٹرل شاروخ ارجمند اوراسپیشل جج سینٹرل-2 ہمایوں دلاور دفتر سے غیر حاضر تھے۔

پی ٹی آئی کے وکلاء کا مؤقف تھا کہ وہ ضمانتی مچلکے اس لیے جمع نہیں کروا سکے کیونکہ سرکاری اوقات کار میں کوئی عدالتی افسر دستیاب نہیں تھا۔ بشریٰ بی بی کے وکلاء نے ایڈمنسٹریٹو جج جواد عباس سے رابطہ کیا لیکن وہ بھی عدالت سے جا چکے تھے۔

بشریٰ بی بی تقریباً 9 ماہ تک قید میں رہیں۔ انہیں 31 جنوری 2024 کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے کے بعد انہوں نے خود کو جیل حکام کے حوالے کیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اسلام آباد کے کمشنر نے بنی گالا کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے کر انہیں وہاں منتقل کر دیا تاہم ان کے اصرار پر انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ بعد میں ہائیکورٹ نے ان کی سزا معطل کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا لیکن ان پر دوسرا مقدمہ درج ہونے کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کو10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت دی تاہم بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

Related Posts