اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کے دوران ایک جوڑے نے اپنے شادی کے لمحات کنٹینرز کے سامنے عکس بند کروائے۔
وفاقی دارالحکومت میں سڑکوں کی بندش نے عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جہاں کئی افراد کو ہنگامی صورتحال میں سفر کے دوران رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پی ٹی آئی کے دارالحکومت کی طرف مارچ کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے شہر کے مرکزی داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا ہے جبکہ مارگلہ ایونیو کو دونوں اطراف کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔
قومی شاہراہ اتھارٹی نے “سڑکوں کی مرمت” کے باعث موٹرویز کی بندش کا اعلان جمعہ رات 8 بجے سے کیا تھانتیجتاً اسلام آباد جانے والی موٹرویز کو عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، اور ٹریفک کو ٹھوکر نیاز بیگ اور بابوصابو کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کے 15 اہم راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں، جن میں کٹی پہاڑی، نکلسن مونومنٹ، پاسوال، فتح جنگ روڈ، مارگلہ ایونیو، فیض آباد اور بارہ کہو شامل ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد انتظامیہ نے جمعہ کو شہر کے تمام طلبہ ہاسٹلز کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب حکومت نے 23 نومبر سے 25 نومبر تک صوبے میں دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے تحت تمام احتجاج، اجتماعات، ریلیاں، دھرنے، اور اسی طرح کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔
یہ بندشیں ہزاروں شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی ہیں، جو ہنگامی حالات میں بھی اپنی منزل تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ایک جوڑے نے راستہ نہ ملنے کی وجہ سے کنٹینرز کے سامنے ہی فوٹو شوٹ کرواکر اپنی شادی کے لمحات کو یادوں میں قید کرلیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








