سولہ سال قبل آج کے دن ممبئی میں کیا ہوا تھا، اجمل قصاب کون تھا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو انڈین میڈیا

2008 کے ممبئی حملوں کو سولہ سال گزر چکے ہیں، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے لاتعداد زندگیوں اور پاکستان بھارت تعلقات کو مستقل بنیاد پر شدید متاثر کیا۔

یہ حملے، جو 26 نومبر سے 29 نومبر کے درمیان ہوئے، مبینہ طور پر کالعدم لشکر طیبہ کے 10 ارکان کی طرف سے کیے گئے مربوط فائرنگ اور بم دھماکوں سے جڑے ہوئے تھے۔ چار اذیت ناک دنوں پر محیط اس تشدد میں نو حملہ آوروں سمیت 175 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

اجمل قصاب کون تھا؟
ان اعصاب شکن واقعات کا غبار چھٹنے کے بعد انڈیا کی طرف سے دنیا کو بتایا گیا کہ اس کی فورسز نے کارروائی کے دوران ایک حملہ آور کو زندہ پکڑ لیا ہے۔

اس گرفتار کو اکیس سالہ محمد اجمل امیر قصاب کے نام سے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، بتایا گیا کہ قصاب پاکستان کے صوبہ پنجاب کے فرید کوٹ گاؤں سے تعلق رکھتا ہے، بتایا گیا کہ اس نے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر ممبئی کے چھترپتی شیواجی ٹرمینس پر وحشیانہ حملہ کیا، جس میں 52 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔

انڈیا کی جانب سے اس کے بعد مزید الزامات سامنے آئے، جن میں بتایا گیا کہ قصاب نے پاکستان میں قائم کالعدم گروپ لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرکے ہتھیاروں کی تربیت حاصل کی تھی۔

انڈین اداروں کی جانب سے ہی بعد میں یہ اطلاعات سامنے آتی رہیں کہ اپنی گرفتاری کے بعد قصاب نے پہلے ان واقعات میں ملوث ہونے سے انکار کیا لیکن بعد میں اس نے حملوں میں اپنے کردار اور دہشت گرد لشکر طیبہ کے تحت اپنی تربیت کا اعتراف کیا۔

2012 میں بھارت کی سپریم کورٹ نے قصاب کی سزائے موت کو برقرار رکھا، اور اس کی معافی کی حتمی اپیل مسترد ہونے کے بعد اسے 21 نومبر کو 25 سال کی عمر میں پھانسی دے دی گئی۔

Related Posts