پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آئی ہیں،یہ اجلاس سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی تجویز پر بلایا گیا تھا تاکہ دھرنے کے دوران قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شرکاء نے بشریٰ بی بی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کو سنگجانی پر روک دینا چاہیے تھا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بھی سنگجانی میں احتجاج کرنے پر راضی تھے۔
احتجاج کی ناکامی پر کیا گنڈا پور کی چھٹی پکی! خیبر پختونخوا کا نیا وزیراعلیٰ کون؟
اجلاس کے دوران اراکین نے ڈی چوک تک جانے کے فیصلے کا ذمہ دار بشریٰ بی بی کو ٹھہرایا اور ان کی ریلی میں شرکت اور وہاں جانے کے اصرار پر تنقید کی۔ بشریٰ بی بی نے اجلاس کے دوران اپنی ذات پر ہونے والی تنقید خاموشی سے سنی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلمان اکرم راجہ اور حامد رضا نے شکایت کی کہ پارٹی کے اندر ان کی آوازوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ علی محمد خان نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف پارٹی کے بانی عمران خان کو جوابدہ ہیں۔اجلاس میں یہ بھی زیر بحث آیا کہ حامد رضا اور سلمان اکرم راجہ کے استعفوں کی وجوہات کیا تھیں۔
پہلے اطلاعات میں کہا گیا کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کے دوران مبینہ طور پر سخت زبان استعمال کی۔
کھاریاں کے کھسرے اپنا گرو چھڑوا کر لے گئے تھے لیکن، پی ٹی آئی کے ناکام احتجاج پر میمز وائرل
اے آر وائی نیوز کے اینکر کاشف عباسی نے اپنے پروگرام “آف دی ریکارڈ” میں انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سابق خاتون اول کی جانب سے نامناسب الفاظ کے استعمال کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
کاشف عباسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں نے بشریٰ بی بی کے ساتھ ایک سخت اجلاس کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








