وفاقی کابینہ نے مدارس کی رجسٹریشن کے صدارتی آرڈیننس کی منظوری دیدی

تازہ ترین

تازہ ترین

Federal cabinet approves 27th constitutional amendment
ONLINE

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجرا کی منظوری دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے دو صدارتی آرڈیننسز کی منظوری دی، جن میں سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل شامل ہے جو مدارس کی رجسٹریشن پر مرکوز ہے۔اس کے علاوہ انکم ٹیکس آرڈیننس بھی منظور کیا گیا، جو حکومت کو بینکوں کے اضافی 70 ارب روپے منافع پر ٹیکس وصول کرنے میں مدد دے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی، جس میں مدارس بل اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

داتا دربار میں خودکار چھتریوں کی تنصیب کا اعلان

گزشتہ ہفتے، وفاقی حکومت نے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مطالبات کو تسلیم کر لیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹیز ایکٹ کے تحت کی جائے گی، جو تنظیم کے ایک اہم خدشے کو دور کرتی ہے۔

26ویں آئینی ترمیم کے تحت مجوزہ ترامیم کے مطابق ایک نوٹیفکیشن جلد جاری ہونے کی توقع ہے، جس کے ذریعے اس معاہدے کو باضابطہ شکل دی جائے گی۔

پارلیمنٹ نے سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2024 پاس کیا تھا، جسے صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے لیے بھیجا گیا لیکن انہوں نے اس بل کو قومی اسمبلی کو واپس بھیج دیا، یہ کہہ کر کہ اس میں کچھ خدشات موجود ہیں۔

صدر کے خدشات میں بل کی مختلف شقوں میں مدارس کی تعریف کے تضادات شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 پہلے ہی موجود ہے، اس لیے نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔

Related Posts