شام میں انتخابات کے انعقاد میں چار سال لگ سکتے ہیں، احمد الشرع الجولانی

تازہ ترین

تازہ ترین

Ahmed al-Sharaa

شام کے نئے رہنما احمد الشرع الجولانی نے الاخباریہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد میں چار سال لگ سکتے ہیں، انہوں نے ایران اور روس کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور امریکہ سے پابندیاں ہٹانے کی اپیل کی۔

یہ انٹرویو اس وقت کیا گیا جب ان کے گروپ حیات تحریر الشام اور اتحادی باغیوں نے بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔احمد الشرع الجولانی نے کہا کہ ترکی کی مخالفت کرنے والے مقامی کرد قیادت والے فورسز کو قومی فوج میں شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے عمل کے لیے چار سال درکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ آئین کو دوبارہ لکھنے میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی قرارداد 2254، جو 2015 میں منظور ہوئی تھی، شام کے لیے سیاسی منتقلی کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہے، جس میں نئے آئین کی تدوین اور اقوام متحدہ کے تحت انتخابات کا انعقاد شامل ہے۔

عرب دنیا کی مقبول گلوکارہ بھی شام کے انقلابی حکمران کی گرویدہ ہوگئیں

احمد الشرع الجولانی نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شام پر عائد پابندیاں ختم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں اسد حکومت کے جرائم کی بنیاد پر عائد کی گئیں تھیں اور اب اسد کی رخصتی کے بعد انہیں خود بخود ختم ہو جانا چاہیے۔

احمد الشرع الجولانی نے روس اور ایران کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شام ایران کے ساتھ تعلقات کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، لیکن یہ تعلقات دونوں ممالک کی خودمختاری کے احترام پر مبنی ہونے چاہئیں۔ روس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شام کے لیے روس ایک اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔

احمد الشرع الجولانی نے کہا کہ ریاست کے تمام ہتھیار قومی فوج کے کنٹرول میں ہونے چاہئیں اور جو لوگ مسلح ہیں اور دفاعی وزارت میں شامل ہونے کے اہل ہیں، انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شام کے مستقبل میں ایک اہم کردار ادا کرے گا اور ہمسایہ ممالک کے لیے سرمایہ کاری کے بڑے مواقع فراہم کرے گا۔

Related Posts