وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر قرض دہندگان کی شرائط پوری کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کے لیے دوہری پنشن پر پابندی عائد کر دی ہے۔
نئی اصلاحات کے مطابق پنشن کا حساب اب ریٹائرمنٹ سے قبل آخری 24 ماہ کی تنخواہوں کی اوسط پر کیا جائے گا جبکہ پہلے 30 سال کی تنخواہوں کی بنیاد پر حساب کیا جاتا تھا۔
نئے قوانین کے تحت، جو افراد ایک سے زائد پنشن کے اہل ہیں، انہیں صرف ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تاہم اگر کسی پنشنر یا ملازم کے شریک حیات کو پنشن مل رہی ہوتو وہ اپنے شریک حیات کی پنشن کے علاوہ اپنی پنشن لینے کے اہل رہیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہر یا بیوی کو اپنی پنشن کے ساتھ اپنے شریک حیات کی پنشن بھی ملے گی۔
مستقبل میں پنشن میں اضافے کا طریقہ کار بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب یہ اضافہ ریٹائرمنٹ کے وقت مجموعی پنشن سے کمیوٹڈ حصے کو نکال کر کیا جائے گا۔ یہ اضافے علیحدہ رقوم کے طور پر رکھے جائیں گے اور حکومت ہر تین سال بعد بنیادی پنشن کا جائزہ لے گی۔
پنشن کا حساب اب آخری دو سال کی اوسط تنخواہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ پہلے یہ آخری حاصل شدہ تنخواہ پر کیا جاتا تھا۔
سالانہ پنشن میں اضافے کی کمپاؤنڈنگ ختم کر دی گئی ہے۔ مستقبل میں اضافے بنیادی پنشن سے الگ طریقے سے کیے جائیں گے، جیسا کہ عارضی تنخواہ میں اضافے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
موجودہ مالی سال کے لیے پنشن کے لیے 1.014 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں سے 66 فیصد مسلح افواج کو دیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ کے ریگولیشن ونگ نے ان اصلاحات کے نفاذ کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں بڑھتے ہوئے پنشن کے اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہیں، جو ملک کے بڑھتے ہوئے قرض کے بوجھ کی عکاسی کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








