لڑکیوں کی تعلیم کے حقوق کی عالمی علمبردار اور نوبل انعام یافتہ اور ملالہ یوسفزئی 11 اور 12 جنوری کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی دو روزہ عالمی تعلیمی کانفرنس میں خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کیلئے پاکستان کا دورہ کریں گی۔
وفاقی سیکریٹری تعلیم محی الدین احمد وانی نے تصدیق کی ہے کہ ملالہ کانفرنس میں شرکت کے بعد لندن واپس جائیں گی۔
یہ کانفرنس مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے چیلنجز اور مواقع پر توجہ مرکوز کرے گی۔ اس کا مقصد مکالمے کو فروغ دینا اور ان مسائل کے قابلِ عمل حل تلاش کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس میں کلیدی خطاب کریں گے اور لڑکیوں کی تعلیم اور صنفی مساوات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کریں گے۔
کانفرنس کے شرکاء اور پینلسٹ کامیابی کی کہانیاں شیئر کریں گے۔تقریباً 44 مسلم اور دوستانہ ممالک کے 150 سے زائد معززین، بشمول وزراء، سفیر، ماہرین تعلیم اور اسکالرز، کانفرنس میں شریک ہوں گے۔
بین الاقوامی پارلیمانی ادارہ عمران خان کے خلاف مقدمات کی نگرانی کریگا
یونیسکو، یونیسیف اور ورلڈ بینک کے نمائندے بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ پر دستخط کی ایک باضابطہ تقریب ہوگی، جو مسلم معاشرے کی لڑکیوں کو تعلیم کے ذریعے بااختیار بنانے کے مشترکہ عزم کا اظہار کرے گی اور جامع و پائیدار تعلیم کے لیے راہیں ہموار کرے گی۔
وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم اور وزرائے اعلیٰ بھی شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان معاشرے کی روایات کو اہمیت دیتا ہے اور افغان حکومت کو بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ “ہم تعلیم اور روزگار کے لحاظ سے ابھی بہت پیچھے ہیں۔”
ملالہ محض 15 برس کی تھیں جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے سوات میں اسکولوں کی بندش پر آواز اٹھانے کی پاداش میں ان کے سر پر گولی ماری تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








