سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف مقدمات پر عالمی برادری کی جانب سے مسلسل تنقید کی جا رہی ہے جبکہ ایک اور بین الاقوامی پارلیمانی ادارے نے ان مقدمات کی عدالتی سماعتوں کی نگرانی کے لیے پاکستان میں مبصر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دنیا بھر میں جمہوری طرز حکمرانی، احتساب اور پارلیمانوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے والے عالمی ادارے انٹر پارلیمنٹری یونین نے پاکستان میں ایک مبصر بھیجنے کی منظوری دی ہے۔
جانتے ہیں پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی پر برسانے کیلئے آنسو گیس کے شیل کتنے میں خریدے؟
عمران خان کی قانونی ٹیم کے رکن خالد یوسف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ یہ مبصر 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے اور توشہ خانہ کیسز کی کارروائی میں شریک ہوگا۔
خالد یوسف چوہدری نے ان مقدمات کو “سیاسی انتقام” کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ قانونی احتساب کے بجائے ایک خاص مہم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی یو کے ساتھ ہونے والے تبادلۂ خیال میں جی ایچ کیو کیس کو بھی زیر بحث لایا جائے گا جس میں عمران خان کو 9 مئی کو شواہد کی کمی اور قانونی بنیادوں کے بغیر فرد جرم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے عدالتی نظام کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے ہیں۔
آئی پی یو کے مبصر کے آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرنے کی توقع ہے۔ اس دورے کے دوران وہ اڈیالہ جیل میں عمران خان کی حراست کی حالت کا جائزہ لے گا اور عدالتی کارروائیوں کا معائنہ کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








