خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں عسکریت پسندوں نے ایک گاڑی پر حملہ کر کے ایٹمی توانائی کے منصوبے سے وابستہ کان کنی کے 16 مزدوروں کو اغواء کر لیا، پولیس اور سیکورٹی حکام نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
پولیس افسر محمد اعجاز کے مطابق حملہ آوروں نے مزدوروں کو لے جانے والی گاڑی پر حملہ کرنے کے بعد اسے نذر آتش کر دیا۔ یہ واقعہ افغانستان سے متصل علاقے میں پیش آیا۔
محمد اعجاز نے مزید بتایا کہ مزدور لکی مروت سے قریب واقع کان کنی کے منصوبے کی طرف جا رہے تھے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
سیکورٹی حکام کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن سے منسلک ہے لیکن اغوا ہونے والے مزدور کمیشن کے ملازمین نہیں ہیں۔
بین الاقوامی پارلیمانی ادارہ عمران خان کے خلاف مقدمات کی نگرانی کریگا
چند گھنٹوں بعد دہشت گردوں نے صحافیوں کو ایک ویڈیو بھیجی، جس میں اغوا شدہ مزدوروں میں سے ایک کو حکام سے اغوا کاروں کے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دکھایا گیا تاہم ان مطالبات کی نوعیت واضح نہیں ہے۔
تاحال کسی تنظیم نے اس اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن کالعدم تحریک طالبان پاکستان پر شیک کیا جا رہا ہے جو حالیہ مہینوں میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں اضافہ کر چکے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل مسلح بلوچ علیحدگی پسندوں نے جنوب مغربی پاکستان کے ایک دور دراز ضلع میں سرکاری دفتر پر قبضہ کیا، ایک بینک کو لوٹا اور ایک پولیس اسٹیشن کو جزوی طور پر آگ لگا دی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








