اسلام آباد :چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے ۔
بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروایا جائے تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔
نیب نے گزشتہ دوسال کے دوران مجموعی طور پر بدعنوان عناصر سے بلاواسطہ اور بلواسطہ لوٹے گئے 178ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب اہلکاروں میں شاندار کرکردگی پرمیرٹ سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہاکہ اس تقریب کا مقصد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے نیب افسران واہلکاران کی حوصلہ افزائی کرناہے۔نیب ہر شعبہ میں میرٹ پر عمل پیرا ہے اور یہ سرٹیفکیٹس میرٹ پر دئیے جا رہے ہیں۔
نیب کے تمام افسران واہلکاران نے ادارے کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار اداکیاہے۔نیب افسران نے اپنی محنت،عزم اورحوصلے سے نیب کو فعال ادارہ بنادیاہے۔
مزید پڑھیں: ایم کیوایم حکومت گرانے میں ساتھ دے، سندھ میں وزارتیں دینے کیلئے تیارہیں، بلاول بھٹو
نیب افسران اسی کارکردگی کو جاری رکھیں گے اور قوم کی ملک سے بدعنوانی سے خاتمہ کیلئے امنگوں پر پورا اترنے کیلئے اپنی کوششیں دوگناکریں گے۔
جاوید اقبال نے کہاکہ چئیرمین نیب کا عدہ سنبھالنے کے بعد نیب کو فعال ادارہ بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے ہیں۔ چئیرمین نیب نے کہاکہ سفارش ،دھمکی اور دبائونیب کے باہرختم ہوجاتاہے ،انہوں نے کہاکہ نیب فیس نہیں کیس دیکھتاہے۔
کوئی چاہے جتنا بھی طاقتورہو جو کرے گا وہ بھرے گا۔
جاوید اقبال نے کہاکہ پلڈاٹ،ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ورلڈ اکنامک فورم جیسے اداروں نے نیب کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔انہوں نے کہا کہ عنوانی کا خاتمہ اور میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔
جاوید اقبال نے کہاکہ نیب کا تعلق کسی گروہ ،فرد،گروپ یا سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ صرف اور صرف پاکستان سے ہے۔ نیب کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں۔نیب کو کسی کے خلاف غلط کیس بنانے کی ضرورت نہیں۔
بادی النظر میں شہادتیں موجود ہوتی ہیں تو نیب کیس بناتاہے،ضمانت دینامعزز عدالتوں کا اختیار ہے ، ضمانت سے کیس ختم نہیں ہوتا،یہ عبوری ریلیف ہوتاہے۔
نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح 70فیصد سے زائد ہے۔ چئیرمین نیب نے کہاکہ نیب ٹیکسوں سے متعلق مقدمات گزشتہ 3ماہ سےFBR کو بھجوا رہاہے۔بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے ڈائریکٹر نیب کی سربراہی میں خصوصی سیل قائم کیاگیاہے ۔
انہوں نے کہاکہ نیب نے ایساکوئی اقدام نہیں کیا جس سے بیورو کریسی میں بد دلی پھیلے یا معیشت کو نقصان پہنچے۔ہمیشہ شہادتوں اورمعروضی حقائق کو سامنے رکھ کر کارروائی کی۔
انہوں نے کہاکہ قانون کے راستے میں کوئی مصلحت رکاوٹ نہیں بنے گی۔کرپشن کرنے والوں کو ہرصورت جوابدہ ہوناپڑے گا۔
چئیرمین نیب نے کہاکہ نیب نے گزشتہ دوسال کے دوران مجموعی طور پر بدعنوان عناصر سے بلاواسطہ اور بلواسطہ لوٹے گئے 178ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے جبکہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 328ارب روپے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں جو کہ نیب کی نمایاں کامیابی ہے ۔
گزشتہ دوسال کے دوران نیب لاہورنے 36.333ارب روپے،کراچی50ارب روپے،خیبرپختونخوانے 0.363ارب روپے،بلوچستان نے 0.646ارب روپے،راولپنڈی نے 80ارب روپے،،سکھرنے 2.899ارب روپے اور نیب ملتان نے8.226ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائے ہیں۔
بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے ۔بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔چئیرمین نیب نے کہاکہ نیب کی پالیسی ’’ احتساب سب کیلئے‘‘ کی ہے۔
ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح اور زیرو ٹالرنس اور خود احتسابی کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نیب ے نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائی ہے َجس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔
قومی احتساب بیورو میں جہاں اور بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائیں وہاں قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کا نہ صرف عزم کیا بلکہ اس کو پورا کر کے دکھایا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کی منظوری کے بعد نیب ترمیمی آرڈیننس کا مسودہ جاری کر دیا گیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








