امریکی اور ڈچ حکام کا پاکستانی سائبر کرائم نیٹ ورک ’ہارٹ سینڈر‘ کو تباہ کرنے کا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی اور ڈچ حکام نے ایک بڑے عالمی کریک ڈاؤن میں پاکستان میں قائم ایک سائبر کرائم نیٹ و رک ،جس پر دنیا بھر میں جرائم پیشہ افراد کو ہیکنگ ٹولز اور فراڈ کی خدمات فراہم کرنے کا الزام ہے، کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف (ڈی او جے) نے اس نیٹ ورک کو ’ہارٹ سینڈر‘ کے طور پر شناخت کیا ہے، جس کی قیادت مبینہ طور پر صائم رضا کر رہے تھے۔

اگرچہ ڈی او جے نے صائم رضا یا ان کے ٹھکانے کے بارے میںابھی تک تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ اس نیٹ ورک نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک آن لائن بازار چلائےہیں، جن میں جعلسازی، مالویئر کی تقسیم، اور بڑے پیمانے پر مالی فراڈ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

آپریشن ’ہارٹ بلاکر‘ کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نیٹ ورک کے زیر استعمال 39 ڈومینز اور متعلقہ سرورز کو ضبط کیا، اور ڈی او جے کا اندازہ ہے کہ ان پلیٹ فارمز نے صرف امریکا میں 30 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا مالی نقصان پہنچایاہے۔

سندھ حکومت کا عوام کو جھٹکا، پیپلز بس کا کرایہ 60 فیصد تک بڑھادیا، اطلاق آج شروع

امریکی اٹارنی نکولس جے گنجی نے کہا کہ یہ فراڈ کرنے والے افراد نہ صرف کاروباری اداروں، بلکہ افراد کو بھی نشانہ بناتے ہیں، جس کی وجہ سے متاثرین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کی ویب سائٹس نے بدنیتی پر مبنی ہیکنگ ٹولز کی تقسیم کو آسان بنایاہے، جس کے ذریعے سیکیورٹی فلٹرز کو بائی پاس کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر جعل سازی کی ای میلز بھیجی جاتی تھیں۔

اس نیٹ ورک نے جعل سازی کے ٹولز تیار کیے اور انہیں فروخت کیا، جن میں ایسےسافٹ ویئرز بھی شامل تھے جو مختلف پلیٹ فارمز کے لاگ ان صفحات کی نقل بنانے کے لیے استعمال کئے جاتے تھے۔ ان جعلی صفحات کے ذریعے متاثرین کو دھوکہ دے کر ان کے صارف نام اور پاس ورڈ چُرائے جاتے اور پھر انہیں بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتاتھا۔

ان کا اہم ٹول ’ہارٹ سینڈر‘ تھا، جو مجرموں کو سیکیورٹی فلٹرز کو نظرانداز کرتے ہوئے اسپام ای میلز بھیجنے کی سہولت دیتا تھا۔

صائم رضا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں سائبر کرائم گروپ کا مرکزی رہنما ہے، اور اس نے مختلف برانڈز کے تحت جعل سازی اور اسپام آپریشنز چلائے ہیں۔ اس کے ٹولز سائبر سیکیورٹی کے نظام کو بائی پاس کرنے کے لیے ڈیزائن کیے تھے۔

باوجود اس کے کہ صائم رضا نے اپنے ماضی کی سرگرمیوں سے دستبرداری کا دعویٰ کیا، یہ گروہ اب بھی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا، جس پر بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔

Related Posts