کراچی: جمعہ کے روز سیہون میں المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونیوالے زین ترابی معروف شیعہ عالم علامہ حسن ترابی (مرحوم) کے صاحبزادے تھے، ان کی عمر صرف 22 سال تھی۔
زین ترابی کے ساتھ گلگت بلتستان کے معروف نعت و منقبت خواں خواجہ علی اور سید جان علی رضوی بھی حادثے کا شکار ہوئے اور تینوں موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ حادثے میں دو دیگر افراد بھی زندگی کی بازی ہار گئے۔
واضح رہے کہ علامہ حسن ترابی پاکستان کے ایک معروف شیعہ عالمِ دین اور شیعہ سیاسی جماعت تحریکِ جعفریہ پاکستان کے سربراہ تھے۔ انہیں 14 جولائی 2006 کو ایک خودکش حملے میں قتل کر دیا گیا تھا جب وہ 2006 کی لبنان جنگ کے خلاف اسرائیل مخالف احتجاج میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے۔ حملہ آور کا تعلق مبینہ طور پر بنگلہ دیشی تنظیم سے تھا۔
زین ترابی اور دیگر جاں بحق ہونے والے افراد جن میں سید جان علی رضوی، خواجہ علی اور دو دیگر شامل تھے، خیرپور سندھ میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کے بعد کراچی واپس آ رہے تھے کہ سیہون شریف کے قریب ان کی گاڑی کو المناک حادثہ پیش آیا۔
مقامی حکام کے مطابق حادثہ قومی شاہراہ پر سیہون شریف کے قریب پیش آیا، تاہم حادثے کی مکمل تفصیلات تاحال تحقیقات کے مراحل میں ہیں۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد پاکستان بھر میں مذہبی شاعری، نعت خوانی اور مرثیہ خوانی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا، اور سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








