بجلی کی اووربلنگ، عوام سے 21 ارب روپے کی ڈکیتی، ملوث افراد کا حیران کن انجام

تازہ ترین

تازہ ترین

Sindh Announces Affordable Electricity Plan for Karachi
ONLINE

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ بجلی کے بلوں میں 21 ارب روپے کی اووربلنگ میں ملوث سرکاری افسران اور ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین پی اے سی نے وزارت خزانہ کے حکام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بجلی کے شعبے میں 300 بڑے نادہندگان کی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ملک کی نو بجلی تقسیم کار کمپنیاں نادہندگان سے کھربوں روپے کی وصولی میں ناکام رہی ہیں۔ اجلاس میں ایک آڈٹ اعتراض بھی زیر بحث آیا جس میں 877 ارب روپے کی عدم وصولی کا ذکر کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ بجلی کے بلوں میں 21 ارب روپے کی اووربلنگ میں ملوث افسران اور ملازمین کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے حکام کو ہدایت دی کہ ہر ماہ ایک رپورٹ پیش کی جائے جس میں ریکوری کی گئی رقم اور اووربلنگ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کیے گئے اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں۔

ملک بھر میں بجلی کے صارفین کے مسائل سننے والا کوئی نہیں جبکہ اووربلنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو استعمال سے زیادہ بل ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اووربلنگ کے ذمہ دار افراد عوام کو اضافی بلوں کا بوجھ ڈال کر خود بغیر کسی نقصان کے بچ نکلتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ افسران اعلیٰ سطح کی کمیٹیوں میں اس کا کھلے عام اعتراف بھی کرتے ہیں جو ملک میں بڑھتی ہوئی بدانتظامی اور لا قانونیت کو ظاہر کرتا ہے۔

Related Posts