بیجنگ: چین میں منعقدہ ایک روبوٹکس فیسٹیول کے دوران ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جب ایک روبوٹ نے اچانک انسانوں پر حملہ کر دیاجس سے وہاں موجود افراد خوفزدہ ہوگئے۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے جس پر مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
چین میں ہونے والے ایک روبوٹکس فیسٹیول میں ایک جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے لیس ہیومنوئیڈ روبوٹ نے اچانک اپنا کنٹرول کھو دیا اور تیزی سے حاضرین کی طرف بڑھنے لگا۔
عینی شاہدین کے مطابق روبوٹ کے غیر متوقع رویے سے تقریب میں بھگدڑ مچ گئی تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے صورت حال کو قابو میں کیا۔
ماہرین کے مطابق ہیومنوئیڈ روبوٹس عام طور پر انسانوں کی مدد کے لیے بنائے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات تکنیکی خرابی کے باعث یہ جارحانہ رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے واقعات زیادہ تر روبوٹ کے سافٹ ویئر یا ہارڈویئر میں خرابی کے نتیجے میں پیش آتے ہیں۔
روبوٹ کے حملہ آور ہونے کی ممکنہ وجوہات میں اگر روبوٹ کے سافٹ ویئر میں کوئی بگ ہو تو یہ غیر متوقع طور پر خطرناک رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ اگر روبوٹ کے سینسرز کام نہ کریں تو وہ اردگرد کے ماحول کو درست طریقے سے پہچاننے میں ناکام ہو سکتا ہے، جس سے خطرناک حرکتیں ممکن ہو جاتی ہیں۔
اگر روبوٹ میں نصب حفاظتی نظام کام کرنا چھوڑ دے تو وہ انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ بعض اوقات روشنی، شور، یا دیگر غیر متوقع عناصر روبوٹ کے رویے کو متاثر کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے وہ غیر متوقع حرکات کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے مستقبل سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی اور روبوٹکس ٹیکنالوجی میں مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
یہ واقعہ ایک وارننگ ثابت ہو سکتا ہے کہ روبوٹکس ٹیکنالوجی کے بے قابو ہونے کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں اور اس پر مزید تحقیق اور نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








