امارات میں بھیک مانگنے والے 10 پاکستانی گرفتار، 5 خواتین شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

10 Pakistanis, including 5 women, arrested for begging in the UAE
(Image: Khaleej Times)

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکام نے بھیک مانگنے کے الزام میں 10 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا، جن میں 5 خواتین بھی شامل ہیں۔

جیو نیوز نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یو اے ای حکام نے پاکستانی حکام کو اس معاملے سے آگاہ کیا ہے۔

گرفتار خواتین میں آمنہ بی بی، کوثر بی بی اور فرزانہ بی بی کا تعلق وہاڑی، پنجاب سے ہے جبکہ جمیلہ بی بی اور زبیدہ بی بی لاہور سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ خواتین متحدہ عرب امارات میں مختلف مقامات پر بھیک مانگتے ہوئے پکڑی گئیں اور انہیں جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی پاکستان واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح مردوں میں محمد ذکریا (ڈیرہ غازی خان)، وسیم حیدر (بہاولنگر)، محمد عثمان (لاہور)، اعجاز خان (چارسدہ) اور عبداللہ (پشاور) شامل ہیںجو بھیک مانگنے کے الزام میں گرفتار ہوئے۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد کے لیے ایمرجنسی پاسپورٹ جاری کر دیے گئے ہیں اور انہیں جلد پاکستان واپس بھیجا جائے گا جہاں ان کی گرفتاری کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پاکستانی شہریوں کا بیرون ملک، خصوصاً متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بھیک مانگنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

اس طرح کی سرگرمیاں پاکستان کو ایک پسماندہ اور قانون سے محروم ملک کے طور پر پیش کرتی ہیں، جس سے عالمی سطح پر ملک کی سفارتی اور معاشی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

مزید برآں کئی ممالک بھیک مانگنے کو انسانی اسمگلنگ اور جرائم کی ایک شکل سمجھتے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے ویزا پالیسیوں میں سختی آ سکتی ہے اور قانونی پاکستانی کارکنوں کے لیے بیرون ملک ملازمت کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔

Related Posts