اسلام آباد: سندھ حکومت نے وفاقی حکومت پر شدید جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) نے پنجاب کے لیے نئی موٹر وے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جبکہ سکھر حیدرآباد موٹر وے کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
سندھ حکومت کے مطابق اجلاس کے دوران صوبے کے اعتراضات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے معاملہ صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایکنک کا اجلاس نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں لاہور-ساہیوال-بہاولنگر موٹر وے منصوبے کو منظوری دی گئی۔ اس منصوبے کی لاگت میں 65 فیصد اضافہ ہو کر 264 ارب روپے سے بڑھ کر 436 ارب روپے ہو گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ موٹر وے منصوبے کے کم از کم نصف اخراجات خود برداشت کرے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال باقی ہے۔
اجلاس میں لاہور رنگ روڈ اور رائیونڈ-قصور انٹرچینج کی بھی منظوری دی گئی، جسے عوامی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مکمل کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








