شدت پسندی کا شکار ہونے والے خارجی شہریار کی والدہ کی جانب سے عوام کے لیے ایک خصوصی پیغام سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچانے کی اپیل کی ہے اور فتنہ خوارج کے مظالم پر دل گرفتہ اظہار کیا ہے۔
موقر آج نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا نوجوان شہریار، جو ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، خوارج کے جال میں پھنس کر شدت پسندی کی راہ پر چل پڑا۔ والدہ کے مطابق شہریار کو فتنہ الخوارج کے عناصر اپنے ساتھ لے گئے اور حکومت کے خلاف لڑنے پر آمادہ کر دیا۔
شہریار کی والدہ نے جذبات سے بھرپور انداز میں بتایا کہ ان کا بیٹا مدرسے میں زیر تعلیم تھا اور وہ ایک سادہ زندگی گزار رہا تھا، لیکن خارجی شدت پسندوں نے اسے ورغلا کر حکومت اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھڑا کر دیا۔
انہوں نے بتایا، ’میں اسے دو تین بار ڈھونڈنے گئی لیکن خارجیوں نے بیٹے کو واپس نہیں کیا۔ وہ ظالم لوگ ہیں، میرے بیٹے کو مجھ سے چھین کر اپنی لڑائیوں میں جھونک دیا۔ وہ حکومت کے خلاف لڑ رہا تھا اور اسی جنگ میں مارا گیا۔‘
خارجی شہریار کی والدہ نے مزید انکشاف کیا کہ شدت پسند گروہ ان کے باقی بیٹوں سے بھی رابطہ کرکے انہیں ہراساں کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے خاندان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ’ہم خوارج سے بہت تنگ آ چکے ہیں، اسی وجہ سے ہم اپنا گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘
انہوں نے دیگر ماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا، ’تمام مائیں اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی فتنہ آپ کے بچوں کو ورغلا کر ہمیشہ کے لیے آپ سے دور کر دے۔‘
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








