امریکی عوام جارحیت پسند مہم جو ٹرمپ سے تین ماہ کے اندر ہی اکتانے لگے، ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان سامنے آگیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی ایلون مسک کے مخالفین ہفتے کے روز پورے امریکہ میں ریلی نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ریلی حکومت کے سائز میں کمی، معیشت، انسانی حقوق اور دیگر مسائل پر ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کے خلاف نکالی جائے گی۔
بارہ سو سے زیادہ “ہینڈز آف!” مظاہروں کی منصوبہ بندی 150 سے زیادہ گروپوں نے کی ہے جن میں شہری حقوق کی تنظیمیں، مزدور یونینیں، ایل جی بی ٹی کیو پلس کے حامی، سابق فوجی اور منصفانہ انتخابات کے کارکنان شامل ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل مال، ریاستی دارالحکومت اور تمام 50 ریاستوں میں دیگر مقامات پر احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے احتجاج کے بارے میں تبصرہ کرنے کے لیے ای میل پیغام کا جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کو امریکہ کے بہترین مفاد میں قرار دیا ہے۔
مظاہرین ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں وفاقی کارکنان کی برطرفی، سوشل سیکورٹی ایڈمنسٹریشن کے فیلڈ دفاتر کی بندش، پوری کی پوری ایجنسیوں کو مؤثر طریقے سے بند کر دینے، تارکینِ وطن کی ملک بدری، مخنث لوگوں کے لیے تحفظات میں کمی اور صحت کے پروگراموں کے لیے وفاقی اعانت میں کمی کے اقدام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
اسپیس ایکس، ٹیسلا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک اور ٹرمپ کے مشیر ایلون مسک نے حکومتی کارکردگی کے نئے محکمے کے سربراہ کی حیثیت سے حکومت ارکان کی تعداد گھٹانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر بچا رہے ہیں۔
نئی انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کارکنان نے ٹرمپ یا مسک کے خلاف متعدد بار ملک گیر مظاہرے کیے ہیں۔ لیکن حزبِ اختلاف کی تحریک کا 2017 میں خواتین کے مارچ کی طرح وسیع پیمانے پر متحرک ہونا ابھی باقی ہے جو ٹرمپ کے پہلے افتتاح کے بعد ہزاروں خواتین کو واشنگٹن ڈی سی کھینچ لایا یا 2020 میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد متعدد شہروں میں شروع ہونے والے بلیک لائیوز میٹر مظاہرے کی طرح۔
منتظمین نے امید ظاہر کی ہے کہ جنوری میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ہفتہ کے دن ہونے والے مظاہرے سب سے وسیع پیمانے پر ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








