کوٹ ادو میں یونیورسٹی کی طالبہ کو نوکری کا لالچ دیکر لوٹنے اور اعلیٰ افسران سے غلط تعلق قائم کرنے پر مجبور کرنے والا شخص گرفتار کرلیا گیا۔
کوٹ ادو کے علاقے سناواں کی رہائشی نادیہ ناز نامی یونیورسٹی طالبہ نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں الزام عائد کیا تھا کہ اسے اور اسکے بھائی کو پولیس میں نوکری دلانے کا لالچ دیکر 9 لاکھ روپے اور 2 بلینک چیک وصول کیے گئے ہیں۔
ملزم مجید گورایہ خود کو اعلیٰ پولیس افسران کا ساتھی ظاہر کرکے پولیس افسران سے تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتا رہا، ویڈیو منظرعام پر آنے اور کینیڈا میں مقیم لڑکی کے مینٹور اور معروف سوشل ایکٹوسٹ پروفیسر رضوان خالد چودھری کی بھرپور سوشل میڈیا کمپین کے نتیجے میں اعلیٰ سطح سے دباؤ آنے کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کوٹ ادو کے علاقے سنانواں کی رہائشی لڑکی نادیہ کی ویڈیو گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے، ویڈیو میں لڑکی نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
نادیہ کا کہنا تھا کہ مجید گورایہ نامی نوسرباز نے اسے اور اسکے بھائی کو محکمہ پولیس میں نوکری دلوانے کا لالچ دیکر 9 لاکھ روپے اور 2 بلینک چیکس وصول کیے۔
ملزم اپنی اعلی پولیس افسران کیساتھ تصاویر دکھا کر جلد نوکری دلانے کا وعدہ کرتا رہا، نادیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ مجید گورایہ اور اسکی بیوی اسے اعلی پولیس افسران کیساتھ تعلقات قائم کرنے پر بھی مجبور کرتے رہے، لیکن اسکے انکار پر اب جعلی چیک کی دفعات کے تحت مقدمات درج کروانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
متاثرہ لڑکی کے سوشل میڈیا پر الزامات اور لڑکی کے حق میں بھرپور سوشل میڈیا کمپین کے بعد یہ معاملہ قومی پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھی زیر بحث آیا، جس کے بعد ڈی پی او ڈاکٹر رضوان احمد نے نوٹس لے لیا، پولیس ترجمان کے طابق متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ سنانواں میں ملزم اور اسکی بیوی کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ ملزم مجید گورایہ کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








