کابل: ایک سینئر پشتون صحافی حسن خان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے بگرام ایئر بیس کو باضابطہ طور پر امریکا کے حوالے کر دیا ہے جبکہ امریکا نے کابل کے قریب واقع اس ایئر بیس پر اپنی فوجیں تعینات کر دی ہیں جبکہ طالبان حکومت نے اس خبر پر وضاحت دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
حسن خان کے مطابق طالبان حکومت اور امریکا کے درمیان ایک معاہدے پر اتفاق ہوا ہے جس کے تحت یہ ایئر بیس امریکا کے حوالے کیا گیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے بدلے میں طالبان حکومت کے لیے وہ فنڈنگ بحال کی ہے جو انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد روک دی تھی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی انتظامیہ طالبان حکومت کو ہر ہفتے 40 ملین ڈالر فراہم کرتی تھی تاہم ٹرمپ نے طالبان کو یہ فنڈنگ روک دی تھی۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا، “ہم نے بار بار ان افواہوں کی تردید کی ہے۔
بگرام ایئر بیس کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں مکمل طور پر جھوٹی ہیں۔ عوام کو ایسی جھوٹی خبروں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔
ذرائع طالبان کی وضاحت کو مسترد کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ایئر بیس اب امریکہ کی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
قوم پرست گروپ خاص طور پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے ایئر بیس امریکا کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بگرام ایئر بیس طویل عرصے تک افغانستان میں امریکی فوج کا اہم مرکز رہا ہے تاہم طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ ایئر بیس افغان حکومت کے کنٹرول میں آ گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








