کراچی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بھاری ٹیکسوں نے عالمی تجارتی میدان میں زبردست ہلچل مچا دی ہے جس کا اثر پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر بھی واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے پیر کے روز ہفتے کے پہلے کاروباری دن میں شدید مندی کا سامنا کیا جس کے نتیجے میں کے ایس ای-100 انڈیکس ابتدائی 10 منٹوں میں 2818اعشاریہ 86 پوائنٹس گر کر 115972اعشاریہ 80 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
صبح 9:40 بجے اسٹاک مارکیٹ 115972اعشاریہ 80 پوائنٹس پر 2اعشاریہ 37 فیصد کی منفی تبدیلی کے ساتھ ٹریڈ ہو رہی تھی جبکہ آخری کاروباری سیشن میں یہ 118791اعشاریہ 66 پوائنٹس پر تھی۔ اس دن، 553668391 حصص کا کاروبار ہواجس نے واضح کیا کہ سرمایہ کاروں کے درمیان خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پچھلے سیشن میں بھی اسٹاک مارکیٹ نے مندی کا سامنا کیا تھا، جب کے ایس ای-100 انڈیکس 146اعشاریہ 45 پوائنٹس کا نقصان اٹھاتے ہوئے 118791اعشاریہ 66 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس روز کی تجارت میں 457 کمپنیوں نے اپنے حصص کا کاروبار کیا جن میں سے 151 نے منافع کمایا جبکہ 258 نے نقصان اٹھایا۔
دوسری جانب ین نے امریکا کے خلاف جوابی اقدامات کرتے ہوئے 34 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر کاروبار میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ یہ ٹریڈ وار عالمی معیشت میں ایک نئی کساد بازاری کا باعث بن سکتی ہے۔
ہانگ کانگ، ٹوکیو اور تائی پے کی مارکیٹوں میں بھی شدید مندی کا سامنا کیا گیا، جہاں ہانگ کانگ میں 10 فیصد، ٹوکیو میں 8 فیصد اور تائی پے میں 9 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مندی جاری رہی تو نہ صرف پاکستانی مارکیٹ متاثر ہوگی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔
موڈیز اینالٹکس کے چیف ایریاپیسفک معیشت دان اسٹیو کوچرن نے کہا کہ “ہمیں جلد ہی امریکہ میں ایک کساد بازاری کا سامنا ہو سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو چین بھی متاثر ہوگا کیونکہ اس کی مصنوعات کی طلب میں بھی کمی آئے گی۔”
اس شدید صورتحال نے سرمایہ کاروں کو متفکر کر دیا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کا اثر صرف امریکہ اور چین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی لہر پوری دنیا کے کاروباری میدانوں میں محسوس کی جائے گی۔ اس سب کے درمیان پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے ٹرمپ کی ٹریڈ وار کے اثرات کے باعث اپنا بڑا حصہ کھو دیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے حوصلے پست کر دیے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








