طالبان نے قتل کے 4 مجرموں کو سر عام لٹکا دیا، جانئے قصاص کا اسلامی قانون کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

مجرموں کو قصاص کردیا گیا، فوٹو فرانسیسی میڈیا

افغانستان کے تین صوبوں میں قتل کے 4 مجرموں کو سر عام قصاص کر دیا گیا، قصاص قتل کی اسلامی سزا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مجرموں کو 3 مختلف اسٹیڈیمز میں سرعام موت کی سزا دیدی گئی۔ عدالت کے حکم پر سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مقتولین کے لواحقین نے مجرموں کو گولیاں ماریں۔

افغانستان میں ایک ہی دن میں سزائے موت دیئے جانے کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل ایک دن میں اتنے افراد کو سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔

طالبان کے 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک سرعام سزائے موت پانے والوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔ طالبان کے حکم پر سرعام 2 مجرموں کو گولیاں مار کر سزائے موت دیدی گئی۔

قصاص کیا ہے؟

قصاص اسلامی قانون میں ایک مقررہ سزا ہے جو کسی کے ناحق قتل یا جسمانی نقصان کے بدلے میں دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد انصاف کا قیام اور معاشرے میں جرائم کی روک تھام ہے۔

قصاص میں مجرم کو اتنی ہی سزا دی جاتی ہے جتنی اذیت یا نقصان اس نے دوسرے کو پہنچایا ہو، جیسے جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، یا زخم کے بدلے زخم۔ قرآن مجید نے قصاص کو انسانی زندگی کی حفاظت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

تاہم قصاص معاف بھی کیا جا سکتا ہے اور دیت یعنی خون بہا کے ذریعے صلح کی گنجائش بھی موجود ہے۔

Related Posts