جیسی کرنی ویسی بھرنی کے مصداق فلسطینی مسلمانوں کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرنے والے اسرائیل کے عوام کو ڈیڑھ سال سے جاری غزہ پر جاری صہیونی جارحیت کے عواقب نے معاشی جھٹکوں کا مزہ چکھا دیا ہے۔
18 ماہ سے جاری دجالی جارحیت سے غزہ تو تباہ ہوگیا، لیکن صہیونی ریاست کی بھی چولیں ہل گئی ہیں۔ خاص کرکے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ جنگی حالات میں ہزاروں اسرائیلی شہری اپنی روزمرہ خوراک کے لیے بھی خیراتی اداروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایک ایسا منظر جو اسرائیل جیسے ترقی یافتہ ملک کے لیے غیر معمولی اور چونکا دینے والا ہے۔
خیراتی قطاروں میں کھڑے شہری
تل ابیب، حیفا اور بئر السبع جیسے بڑے شہروں میں خوراک تقسیم کرنے والی تنظیموں کے باہر لمبی قطاریں عام ہو چکی ہیں۔ ان قطاروں میں صرف بے گھر یا غریب نہیں، بلکہ عام مڈل کلاس خاندان، ریٹائرڈ افراد اور ریزرو فوجیوں کے اہل خانہ بھی نظر آ رہے ہیں۔
معاشی گراوٹ کا اثر
اٹھارا ماہ سے جاری جنگ نے چھوٹے کاروباروں، فری لانسرز، اور نچلے متوسط طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ بہت سے افراد اپنی جاب کھو چکے ہیں یا آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے اور بڑھتی مہنگائی کے ساتھ خوراک جیسی بنیادی ضرورت بھی ایک مسئلہ بن چکی ہے۔
اہم خیراتی تنظیموں کا کردار
1. لاتيت (Latet)
اسرائیل کی سب سے بڑی فوڈ ریلیف تنظیم ہے۔ ان کے مطابق “ہم روزانہ ہزاروں خاندانوں کو خوراک فراہم کر رہے ہیں اور ہماری مانگ 300 فیصد بڑھ چکی ہے۔”
2. יד אליעזר (یعزر ہینڈ)
یہودی مذہبی تنظیم جو خاص طور پر بچوں، بیواؤں اور بڑی عمر کے افراد کو خوراک کے پیکٹس فراہم کرتی ہے۔ اس کے یہاں بھی طلب کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
3. پاکیزہ روح (טובה)
یہ ایک رضاکارانہ نیٹ ورک ہے، جو نوجوانوں کو منظم کر کے کھانا پکانے، پیکنگ اور تقسیم کے کاموں میں لگاتا ہے۔ موجودہ حالات میں اس تنظیم نے بھی اپنے دائرہ کار کو پھیلا دیا ہے۔ لیکن اسے بھی فنڈنگ کے مقابلے میں ضرورت کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
شہریوں کے تاثرات
تل ابیب کی خاتون کا میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میں کبھی خود دوسروں کو عطیہ دیا کرتی تھی، آج میں خود قطار میں کھڑی ہوں تاکہ اپنے بچوں کے لیے کھانے کا سامان لے سکوں۔
ایک سابق ریزرو فوجی کا کہنا تھا: “میں نے ملک کے لیے جنگ لڑی، مگر اب اپنے خاندان کو کھانا دینے کے لیے لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ شرم کی بات ہے۔”
سماجی بحران
یہ صورتحال اسرائیلی سماج میں اعتماد کے بحران کو جنم دے رہی ہے، ریاست، جس سے سیکورٹی اور تحفظ کی امید کی جاتی ہے، شہریوں کو خوراک دینے سے بھی قاصر دکھائی دے رہی ہے۔ نتیجتاً، نہ صرف حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ معاشرے میں مایوسی اور غصے کا بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








