سعودی عرب کا سلیپنگ پرنس 36 برس کا ہوگیا، شہزادہ الولید بن خالد بن طلال لندن میں حادثے کے بعد مسلسل 19 سال کومہ میں ہیں۔
شہزادہ الولید لندن میں ایک کار حادثے میں دماغی چوٹ کے بعد 2005 سے مسلسل کومہ میں ہیں، جبکہ وہ اب بھی کومہ میں ہیں جو تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہے۔
شہزادہ الولید بن خالد بن طلال جنہیں سعودی عرب کا ‘سونے والا شہزادہ’ بھی کہا جاتا ہے، گزشتہ ہفتے کوما میں رہتے ہوئے 36 برس کے ہوگئے۔
شہزادہ الولید بن خالد بن طلال کی 36 ویں دالگرہ کے موقع پرسعودی شہریوں نے ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں اور امید کے پیغامات شیئر کیے۔
رپورٹ کے مطابق وہ 2005 سے لائف سپورٹ پر ہیں، وینٹی لیٹر اور فیڈنگ ٹیوب پر منحصر ہیں۔ ان کی حالت میں سالوں میں بہت کم تبدیلی آئی ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق2019 میں شہزادے کی انگلیاں حرکت میں آگئیں، اور اس کا سر ہلکا ہوا، لیکن اس کے بعد سے کوئی خاس پیش رفت نہیں ہوئی۔
سلیپنگ پرنس ریاض کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں طبی ٹیم کی نگرانی میں زیر علاج ہیں۔ ان کے والدین شہزادہ خالد بن طلال اور شہزادی ریما بنت طلال کو امید ہے وہ صحیح ہوجائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








