پاکستان آزادی صحافت کی درجہ بندی میں مزید تنزلی کا شکار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، دن منانے کا مقصد صحافت کو دباؤ سے آزاد رکھنا اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

ہر سال 3 مئی کو صحافت کا عالمی دن (World Press Freedom Day) منایا جاتا ہے، تاکہ آزادی اظہار اور صحافیوں کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

صحافت کا عالمی دن اقوامِ متحدہ کی جانب سے 1993 میں مقرر کیا گیا جس کا مقصد صحافت کو دباؤ سے آزاد رکھنا اور دنیا بھر میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کو متعدد اقسام کی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا ہے جس میں صرف جسمانی خطرات تک محدود نہیں بلکہ مالی، قانونی، نفسیاتی اور پیشہ ورانہ دباؤ بھی شامل ہے۔

پاکستان کی آزادی صحافت کی درجہ بندی 2024 میں مزید تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز (RSF) کی 2024 کی عالمی پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق، پاکستان 180 ممالک میں سے 152ویں نمبر پر ہے، جوکہ گزشتہ سال 150ویں نمبر سے دو درجے نیچے ہے۔

سیاسی دباؤ اور سنسرشپ: پاکستان میں صحافیوں کو ریاستی اداروں، بالخصوص فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں، کے معاملات پر رپورٹنگ کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) اور الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) جیسے قوانین کا استعمال صحافیوں کی آزادی اظہار کو محدود کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 1992 سے 2025ء تک دنیا بھر میں 1402 صحافی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس وقت بھی متعدد صحافی جیلوں میں قید ہیں۔

عالمی یوم صحافت پر صدرمملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔

صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ آئین پاکستان آزادی اظہار و آزادی صحافت کا ضامن ہے، بدعنوانی بے نقاب کرنے اور پسماندہ طبقات کیلئے آواز بلند کرنے میں میڈیا کا کردار ناگزیر ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میڈیا کو جھوٹ، فیک نیوز، پروپیگنڈے، غیر ملکی ایجنڈوں اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

Related Posts