اسرائیلی ہیروپ خودکش ڈرون: بھارت نے پاکستان پر حملے میں کن ہتھیاروں کا استعمال کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

What to know about Israeli ‘Harop kamikaze drones’ India used to attack Pakistan
(Image;: english.iswnews.com)

پاکستانی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے بھارت کی جانب سے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے تقریباً دو درجن ڈرونز کو کامیابی سے روکا اور تباہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستانی افواج نے بھارتی ساختہ “ہیروپ” ڈرونز کو جدید دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیا جن میں “سوفٹ کل” یعنی تکنیکی مداخلت اور “ہارڈ کل” یعنی ہتھیاروں سے تباہی دونوں طریقے شامل تھے، مجموعی طور پر 25 ڈرونز مار گرائے گئے۔

یہ ڈرونز پاکستان کے مختلف شہروں میں داخل ہوئے جن میں لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، راولپنڈی، اٹک، بہاولپور، اور کراچی کے قریب چھور کے علاقے شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اگرچہ زیادہ تر ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایک ڈرون لاہور کے قریب ایک فوجی تنصیب سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں چار فوجی زخمی اور بعض فوجی آلات کو جزوی نقصان پہنچا۔ سندھ میں ایک اور حملے میں ایک شہری جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوا۔

ہیروپ خودکش ڈرون کیا ہے؟
ہیروپ جسے ہارپی بھی کہا جاتا ہے، اسرائیلی ادارےاسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز کی تیار کردہ ایک جدید “لوئٹرنگ منیشن” یعنی منڈلانے والی خودکش بم ڈرون ٹیکنالوجی ہے۔ روایتی ڈرونز کے برعکس یہ ہتھیار ٹارگٹ ایریا کے اردگرد فضا میں منڈلاتا ہے اور جیسے ہی ہدف سامنے آئے اس سے ٹکرا کر دھماکہ کرتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی ایسے خفیہ یا وقتی اہداف پر برق رفتاری سے حملے کے لیے استعمال ہوتی ہے جن پر عام طیاروں یا میزائلوں سے حملہ کرنا ممکن نہ ہو۔ ہیروپ بغیر پائلٹ طیاروں کی جگہ لیتا جا رہا ہے کیونکہ اس سے انسانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر مؤثر حملے ممکن ہیں۔

ساخت، تاریخ اور عالمی استعمال
ہیروپ ڈرون کی تیاری 2001 سے 2003 کے درمیان شروع ہوئی اور اسے 2009 کے بھارتی ایئر شو میں پہلی بار عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ اسی سال بھارت نے 10 ہیروپ ڈرونز کے لیے تقریباً 100 ملین ڈالر کا معاہدہ کیایعنی ہر ڈرون کی قیمت 10 ملین ڈالر کے قریب رہی۔

یہ ڈرون کاربن فائبر سے تیار کیا جاتا ہے تاکہ اس کا وزن کم اور ریڈار پر نظر آنا مشکل ہو۔ اس میں جدید کیمرا نصب ہوتا ہے جو دن رات اور ہر موسم میں ہدف کو تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی پروں کی ساخت اور عمودی پرواز کنٹرول فن اسے کم جگہ میں ذخیرہ اور تیزی سے لانچ کرنے کے قابل بناتی ہے۔

ہیروپ کو پہلی بار حقیقی جنگی ماحول میں آذربائیجان نے آرمینیا کے خلاف ناگورنوکاراباخ کی لڑائی میں استعمال کیا تھا جہاں اس نے دشمن کی فضائی دفاعی نظام اور ٹروپ ٹرانسپورٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

دنیا میں ہیروپ کی فروخت
بھارت اور آذربائیجان کے علاوہ مراکش اور سنگاپور جیسے ممالک بھی اس ڈرون کو حاصل کر چکے ہیں جو کہ اس ٹیکنالوجی کی جدید فضائی جنگ میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جرمنی اور یورپی ادارہ ایم بی ڈی اے نے بھی اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی ظاہر کی تھی تاہم سیاسی اور فوجی وجوہات کی بنا پر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

Related Posts