واٹر کارپوریشن اور ٹینکر مافیا کی ملی بھگت سے کراچی میں پانی کا بحران، ایم ڈی انجان؟

تازہ ترین

تازہ ترین

"Karachi’s Water Crisis: A Dirty Alliance Between the Water Corporation and the Tanker Mafia"
ONLINE

کراچی شہر اس وقت بدترین پانی کے بحران کا شکار ہے مگر اس بحران کی جڑیں صرف قدرتی قلت میں نہیں بلکہ واٹر کارپوریشن اور ٹینکر مافیا کی ملی بھگت پر مبنی کرپشن کے گہرے نظام میں پیوست ہیں۔

شہر بھر میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (کے ڈبلیو اینڈ ایس سی) کی نگرانی میں چلنے والے سات سرکاری ہائیڈرنٹس پر نجی ٹینکر مافیا کا مکمل کنٹرول ہے جو سرکاری نرخوں پر حاصل کیا گیا پانی مہنگے داموں شہریوں کو فروخت کرتے ہیں۔

شہری کئی کئی دن تک واٹر بورڈ کی آن لائن ٹینکر سروس (او ٹی ایس) پر آرڈر دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر یا تو نظام کام نہیں کرتا یا آرڈر دینے کے باوجود پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔

باوثوق ذرائع کے مطابق یہ سستا سرکاری پانی انہی شہریوں کو بعد ازاں 4000 سے 10000 روپے تک میں بیچا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سرکاری ایپ پر 1000 گیلن پانی کی مقررہ قیمت صرف 2501 روپے ہے، جس میں 1560 روپے واٹر چارجز اور باقی فاصلے کے مطابق ڈیلیوری چارجز شامل ہوتے ہیں، مگر یہ سہولت صرف نام کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یومیہ درجنوں سرکاری ٹینکرز کا پانی مخصوص اور منظور نظر افراد کو فراہم کیا جاتا ہے، جب کہ عام شہری آنکھوں میں امید لیے پانی کے انتظار میں رہ جاتے ہیں۔ اس کالے کاروبار میں مختلف نام شامل ہیں جن کے پاس نیپا، لانڈھی اور دیگر ہائیڈرنٹس کے کنٹریکٹس موجود ہیں۔

اس منظم کرپشن میں واٹر کارپوریشن کے اندرونی افسران، بااثر سیاسی شخصیات اور ٹینکر کنٹریکٹرز سب شریک ہیں۔ شہریوں کا پانی انہی کو واپس مہنگے داموں فروخت کر کے کروڑوں روپے ماہانہ کمائے جا رہے ہیں۔ سوزوکیوں اور رکشوں پر نصب چھوٹے ٹینکروں کے ذریعے بھی پانی کی غیر قانونی فروخت کا دھندہ جاری ہے۔

شدید گرمی میں جب پانی کی طلب بڑھتی ہے تو مصنوعی قلت پیدا کر کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ اسی دوران شہر کی بڑی تنصیبات میں پانی کی لائنیں “اتفاقی طور پر” پھٹ جاتی ہیں یا رساؤ کی آڑ میں پانی کی سپلائی بند کر دی جاتی ہے تاکہ ٹینکر مافیا کو کھلی چھوٹ مل سکے۔ پچھلے پانچ ماہ میں واٹر بورڈ کی اہم تنصیبات میں نصف درجن سے زائد “فنی خرابیوں” کے واقعات ہو چکے ہیں۔

نئے ایم ڈی واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی کے لیے ادارے میں کرپشن کا خاتمہ اور شہریوں کو بروقت پانی کی فراہمی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ حالیہ تبادلوں میں ظفر علی پلیجو، چیف انجینئر ڈبلیو ٹی ایم، اور ہائیڈرنٹ سروسز انچارج سردار علی شاہ کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے تاہم ان کی جگہ آنے والے افسران اضافی ذمہ داریاں سنبھال کر کس حد تک بہتری لا پائیں گے، یہ تاحال ایک سوالیہ نشان ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی پانی کی قلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آخر لائنیں بار بار کیوں پھٹتی ہیں؟ مگر شہری حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر بحران کی جڑ خود حکومتی سرپرستی میں قائم ٹینکر مافیا ہے تو صرف سوالات سے کام نہیں چلے گا۔کراچی کے شہری اب صرف پانی نہیں، انصاف اور شفافیت کے بھی پیاسے ہیں۔

Related Posts