پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی دھمکیوں پر عالمی بینک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ معطل نہیں ہوسکتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق معاہدے میں کسی بھی ترمیم کے لیے باہمی معاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بھارت کے اقدامات بشمول دریائے چناب پر پانی کے بہاؤ کو روکنا اور پیشگی انتباہ کے بغیر آبی ذخائر کو بہانا، کو معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر عالمی بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا جا سکتا، معاہدے میں معطلی کی اجازت کی شق نہیں، معاہدے میں عالمی بینک کا کردار سہولت کار کا ہے۔
صدر عالمی بینک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار ثالث کا نہیں، یہ سب باتیں بے معنی ہیں کہ عالمی بینک اس مسئلے کو کیسے حل کرے گا۔
صدر عالمی بینک نے کہا کہ معاہدہ ختم کرنے یا اس میں تبدیلی کے لیے دونوں ممالک کا رضامند ہونا ضروری ہے، معاہدے میں تبدیلی یا خاتمے کے حوالے سے شرائط معاہدے میں موجود ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








