سیالکوٹ میں سابق پولیس افسر کو مبینہ موبائل فون چوری کے شک پر مسیحی ملازم کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ موترہ میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملک عرفان نامی سابق پولیس افسر نے اپنے ملازم کاشف مسیح پر موبائل چوری کا الزام لگا کر نہ صرف شدید تشدد کیا بلکہ اس پر دو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایسا وحشیانہ ظلم کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔
رپورٹس کے مطابق کاشف کو ڈنڈوں اور بھاری اشیاء سے مارا گیا اور ہولناک طور پر اس کی ٹانگوں میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ حملے کے کچھ ہی دیر بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ فیصل شہزاد نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ پولیس نے ملک عرفان کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ دیگر دو ملزمان اریب اور اعجاز نے عدالت سے ضمانت حاصل کر لی ہے۔
ادھر پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل سید فرہاد علی شاہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ہائی پروفائل کیس قرار دیا ہے۔ انہوں نے تفتیشی افسر کو مکمل کیس ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ پراسیکیوشن کی اولین ذمہ داری ہے، واقعہ میں ملوث ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








