جانتا ہے میں کس کا بیٹا ہوں! کراچی میں بگڑے رئیس زادے کا شہری پر سرعام بہیمانہ تشدد، وائرل ویڈیو

تازہ ترین

تازہ ترین

Karachi man brutally assaults, abuses young boy on busy street
ONLINE

کراچی کی ایک مصروف سڑک پر نوجوان لڑکے پر بے رحمانہ تشدد کی ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں ٹریفک رواں دواں ہے اور ایک شخص لڑکے کو بری طرح پیٹ رہا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل شخص سڑک کے بیچوں بیچ نوجوان لڑکے کو زمین پر گرا کر وحشیانہ انداز میں مار رہا ہے اور مسلسل گالیاں دے رہا ہے۔ اس دوران حملہ آور کو چیختے ہوئے سنا گیا: “تجھے پتا ہے میں کس کا بیٹا ہوں؟”

بعد ازاں ایک راہگیر نے مداخلت کی جس کے بعد مذکورہ شخص پیچھے ہٹا اور اپنی گاڑی میں جا بیٹھا تاہم یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شدید عوامی غصے کا باعث بنی اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبات زور پکڑ گئے۔

صارفین نے اس واقعے کو پاکستان میں بااثر طبقے کے استثنیٰ کی ایک اور مثال قرار دیا جہاں طاقتور افراد اکثر قانون سے بالاتر ہو کر مظالم کرتے ہیں اور صرف عوامی دباؤ کے نتیجے میں ہی کارروائی عمل میں آتی ہے۔

 

یہ واقعہ کوئی انوکھا یا اکیلا نہیں، بلکہ ملک بھر میں ایسے بے شمار واقعات سامنے آ چکے ہیں جو نظام انصاف کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں بااثر ملزمان کے خلاف کارروائی اکثر التواء کا شکار رہتی ہے۔

اس سے قبل ڈی آئی جی اظفر مہیسر کے بیٹے نے نیو ایئر نائٹ پر سرکاری گاڑی چلاتے ہوئے مبینہ طور پر ایک خاتون کو کچل دیا تھا لیکن اب تک قانونی کارروائی مکمل نہیں ہو سکی۔

ملزم ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور ماضی میں بھی مجرمانہ ریکارڈ رکھتا ہے تاہم اس کے باوجود کیس اب تک عدالت میں التواء کا شکار ہے۔

گزشتہ سال 19 اگست کو کراچی کی کارساز روڈ پر نتاشا دانش اقبال جو مبینہ طور پر گل احمد بزنس فیملی سے تعلق رکھتی ہیں، کی تیز رفتاری کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر چار موٹرسائیکلوں اور دو کاروں سے ٹکرا گئی۔

اس حادثے میں آمنہ عارف اور ان کے والد جاں بحق ہوئے جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوئے۔حادثے کی سنگینی کے باوجود نتاشا کو صرف 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ضمانت مل گئی۔

ان تمام کیسز اور ان جیسے دیگر واقعات میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں نظامِ عدل میں موجود نقائص اکثر متاثرین کو بروقت اور منصفانہ انصاف سے محروم رکھتے ہیں۔

Related Posts