لیورپول پریمئر لیگ پریڈ میں کار ہجوم پر چڑھ دوڑی، 50 سے زائد افراد زخمی، حادثے کی لائیو ویڈیو دیکھیں

تازہ ترین

تازہ ترین

Nearly 50 Injured After Driver Plows Into Parade Crowd in Liverpool
nytimes

لیورپول میں پریمئر لیگ کی ٹرافی پریڈ کے دوران پیر کی شام ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک کار نے فٹبال کلب کے جشن میں شریک ہجوم کو کچل دیا، جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔

مرسی سائیڈ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے کے قریب پیش آیا، جب پریڈ کے راستے میں ایک گاڑی راہگیروں سے ٹکرا گئی۔

پولیس نے 53 سالہ مقامی شخص کو گرفتار کر لیا ہے جو مبینہ طور پر گاڑی کا ڈرائیور ہے۔ پولیس افسر جینی سمز نے عوام سے اپیل کی کہ وہ واقعے کی وجوہات پر قیاس آرائی سے گریز کریں۔

ریسکیو اداروں نے فوری کارروائی کی اور 27 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ نارتھ ویسٹ ایمبولینس سروس کے سربراہ ڈیوڈ کچن کے مطابق ایک بچے اور ایک بالغ فرد کی حالت تشویشناک ہے۔

مرسی سائیڈ فائر اینڈ ریسکیو سروس کے چیف نک سرل کے مطابق گاڑی کے نیچے پھنسے ہوئے چار افراد کو فائرفائٹرز نے نکالا جب کہ مزید 20 افراد کو جائے وقوعہ پر طبی امداد دی گئی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لیورپول ایف سی کلب 20ویں بار لیگ ٹائٹل جیتنے کی خوشی میں کھلے ٹرک پر پریڈ کر رہا تھا اور ہزاروں خوش باش مداح شریک تھے۔

 

عینی شاہدین کے مطابق ایک سرمئی رنگ کی گاڑی تیزی سے بھیڑ میں گھس گئی، جس سے افراتفری مچ گئی۔”گاڑی نے لوگوں کو کچل دیا، کئی لوگ ہوا میں اچھلتے نظر آئے اور ہم نے گاڑی کے بونٹ سے ٹکراتے لوگوں کی آوازیں سنیں۔ پھر ہر طرف چیخ و پکار تھی، لوگ زخمیوں کی مدد کو دوڑے اور گاڑی کی کھڑکیاں توڑنے لگے۔”

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو “خوفناک” قرار دیتے ہوئے زخمیوں اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور ایمرجنسی سروسز کے فوری ردعمل کو سراہا۔

جائے وقوعہ سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں ریسکیو اہلکار زخمیوں کو اسٹریچر پر ڈال کر ایمبولینسز کی جانب لے جاتے نظر آئے۔ پولیس نے علاقہ گھیرے میں لے کر تفتیشی خیمہ قائم کر دیا ہے۔

لیورپول فٹبال کلب نے بیان جاری کرتے ہوئے متاثرین سے افسوس کا اظہار کیا اور مقامی حکام سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ حریف کلب ایورٹن اور پریمئر لیگ نے بھی سوشل میڈیا پر یکجہتی کا اظہار کیا۔

این ایچ ایس یونیورسٹی اسپتالز آف لیورپول گروپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اسپتال کے مرکزی نمبروں پر کال نہ کریں، متعلقہ افراد سے براہِ راست رابطہ کیا جائے گا۔

Related Posts