کراچی کے علاقے جمشید کوارٹرز میں واقع ایک نجی اسکول میں خاتون ٹیچر پر طالبہ کے اہلِ خانہ اور پولیس افسر ماموں کی جانب سے مبینہ طور پر بدترین تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر سوشل میڈیا میں طوفان برپا ہوگیا۔
جمشید کوارٹرز تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ ٹیچر کی جانب سے ایک معمولی تادیبی کارروائی کے نتیجے میں پیش آیا، طالبہ کے تاخیر سے اسکول آنے پر ٹیچر نے مختصر وقت کے لیے اسے کھڑا کیا، جس کی طالبہ نے گھر جا کر شکایت کردی۔
اس واقعے کے دو روز بعد طالبہ کے والدین اور ماموں جو پولیس افسر بتائے جاتے ہیں، اسکول پہنچے۔ ایف آئی آر کے مطابق ماموں نے خود کو کالا کوٹ تھانے کا ایس ایچ او ظاہر کیا اور اسکول کے پرنسپل کے دفتر میں متعلقہ فیمیل ٹیچر پر مبینہ طور پر حملہ کیا۔ اس حملے میں طالبہ کے والدین بھی شریک تھے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ جب دیگر خواتین اساتذہ نے مداخلت کی تو اُن کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آ چکی ہے، جس میں حملہ آوروں کو اسکول کی حدود میں اُستاد پر حملہ کرتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ملوث افراد میں سے ایک حاضر سروس پولیس اہلکار ہے اور اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فَرُّخ رضا نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور باضابطہ تفتیش جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق ویڈیو شواہد میں حملہ آوروں کو خاتون اُستاد پر جسمانی تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








