غزہ: نسل کشی کے 600 دن مکمل، پڑھئے انسانی تاریخ کی ہولناک ترین تباہی کے ہوشربا اعدادوشمار

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو روئٹرز

28مئی بدھ کے روز 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ کی محصور و محدود پٹی پر جاری صہیونی دہشت گردی اور فلسطینیوں کی بدترین نسل کشی کے 600 دن مکمل ہوگئے۔

اس دوران غزہ نے بے ہر حوالے سے ایسی بے مثال تباہی دیکھی ہے، جس کی مثال رواں صدی میں کہیں نہیں ملتی۔ غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر نے اپنے بیان میں موجودہ صورتحال کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے اہم ترین اعداد و شمار جاری کیے۔
اوّل: آبادی اور عمومی حالات:
(24 لاکھ سے زائد) فلسطینی باشندے غزہ میں نسل کشی، قحط اور نسلی تطہیر کا شکار ہیں۔
600 دن ہو چکے ہیں، غزہ کے شہریوں پر منظم نسل کشی اور جبری بے دخلی مسلط ہے۔
88 فیصد سے زائد غزہ کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق 62 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہو چکا ہے۔
77 فیصد علاقہ غزہ کا اسرائیلی قبضے، حملوں اور جبری ہجرت کے ذریعے چھین لیا گیا ہے۔
نام نہاد “محفوظ” علاقے المواصی کو 46 مرتبہ بمباری کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
دوم: شہداء، لاپتہ افراد اور قتل عام:
63000 سے زائد افراد شہید یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
54,084 شہداء وہ ہیں جنہیں اسپتالوں تک پہنچایا گیا۔
* 9000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں کئی شہید زیر ملبہ ہیں یا ان کا کوئی اتا پتا نہیں۔
18000 سے زائد بچے شہید ہو چکے، جن میں 16854 کی لاشیں اسپتالوں تک پہنچائی گئیں۔
* 12,400 خواتین شہید ہو چکیں، جن میں 8968 کو اسپتالوں میں رجسٹر کیا گیا۔
7950 مائیں شہید ہو چکی ہیں۔
932 شہید بچے ایسے ہیں جو ایک سال کی عمر بھی مکمل نہ کر سکے۔
356 نوزائیدہ بچے جنگ کے دوران پیدا اور شہید ہو گئے۔
1580 طبی عملے کے افراد اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔
115 شہری دفاع کے اہلکار شہید کیے گئے۔
220 صحافی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
754 پولیس و امدادی کارکن شہید ہو چکے ہیں۔
15000 سے زائد اجتماعی قتل عام ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
14000 سے زائد خاندان اسرائیلی قتل عام کا شکار ہوئے۔
2483 خاندان مکمل طور پر مٹ چکے ہیں، جن کے 7120 افراد شہید ہوئے۔
5620 سے زائد خاندان ایسے ہیں جن میں صرف ایک زندہ بچا ہے، باقی سب شہید ہو چکے (مجموعی طور پر 10,151 شہداء)۔
60 فیصد سے زائد شہداء بچے، خواتین اور بزرگ ہیں۔
58 شہادتیں خوراک کی کمی کی وجہ سے ہوئیں، جن میں 53 بچے شامل ہیں۔
242 افراد خوراک و دوا کی قلت کے باعث وفات پا گئے، ان میں زیادہ تر بچے اور بزرگ ہیں۔
26 گردے کے مریض غذائیت اور علاج کی کمی کی وجہ سے جان سے گئے۔
300 سے زائد اسقاط حمل صرف غذائی قلت کی وجہ سے ہوئے۔
17 افراد موسمِ سرما میں سردی کی شدت سے جاں بحق ہوئے، جن میں 14 بچے شامل تھے۔
تیسری شق: زخمی، گرفتاریاں اور انسانی بحران:
123308 افراد زخمی یا مجروح ہوئے، جنہیں اسپتالوں میں لایا گیا۔
17000 زخمی ایسے ہیں جنہیں طویل مدتی بحالی اور علاج کی ضرورت ہے۔
4700 سے زائد افراد کے اعضا کاٹنے کی نوبت آئی، جن میں 18 فیصد بچے ہیں۔
415 سے زائد صحافی اسرائیلی جارحیت میں زخمی ہوئے۔
6633 شہری جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے۔
362 طبی عملے کے افراد کو اسرائیلی افواج نے حراست میں لیا۔
48 صحافی قید کیے گئے۔
26 شہری دفاع کے کارکن گرفتار کیے گئے۔
14700 سے زائد خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر شہید ہو چکے۔
42000 سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں (والدین یا والدین میں سے ایک کی شہادت کی وجہ سے)۔
2.136 ملین سے زائد افراد مختلف متعدی بیماریوں میں مبتلا ہوئے، جن کی بنیادی وجہ جبری نقل مکانی ہے۔
71338 افراد ہیپاٹائٹس (جگر کی سوزش) جیسے وبائی مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
چوتھی شق: صحت کا شعبہ
38 اسپتال یا تو تباہ کیے گئے، یا بمباری کا نشانہ بنے، یا مکمل طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔
82 طبی مراکز بھی انہی حملوں کا نشانہ بنے اور اب غیر مؤثر ہیں۔
164 صحت سے متعلق ادارے اسرائیلی حملوں سے تباہ یا مفلوج ہو چکے ہیں۔
144 ایمبولینس گاڑیاں جان بوجھ کر نشانہ بنائی گئیں۔
54 ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔
پانچویں شق: تعلیم اور علمی ادارے:
149 اسکول، جامعات اور دیگر تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
369 تعلیمی ادارے جزوی طور پر تباہ یا غیر فعال ہو چکے ہیں۔
13000 سے زائد طلبہ اسرائیلی حملوں میں شہید کیے گئے۔
785000 سے زائد طلبہ تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں۔
800 سے زائد اساتذہ اور تعلیمی کارکنان جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔
150 سے زائد محققین، ماہرین تعلیم اور سائنس دان بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔
چھٹی شق: عبادت گاہیں اور قبریں:
828 مساجد مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
167 مساجد جزوی طور پر تباہ کی گئیں۔
3 گرجا گھر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنے۔
60 میں سے 19 قبرستان جان بوجھ کر تباہ کیے گئے۔
2300 شہداء اور مردوں کی لاشیں اسرائیلی فوج نے قبروں سے نکال کر چوری کر لیں۔
7 اجتماعی قبریں اسرائیلی افواج نے اسپتالوں کے اندر بنائیں۔
529 شہداء کی لاشیں انہی اجتماعی قبروں سے نکالی گئیں۔
ساتویں شق: رہائش، بے گھر ہونا اور پناہ گزینی:
تقریباً 210000 رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
تقریباً 110000 مکانات بری طرح نقصان زدہ ہو چکے ہیں اور رہائش کے قابل نہیں رہے۔
تقریباً 180000 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے۔
280000 فلسطینی خاندان اب بے گھر ہو چکے ہیں۔
113000 خیمے خستہ حالی کی وجہ سے رہائش کے قابل نہیں رہے۔
20 لاکھ سے زائد افراد جبری ہجرت اور نقل مکانی پر مجبور کیے جا چکے ہیں۔
241 پناہ گزین کیمپ اور مراکز اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔
آٹھویں شق: قحط، امداد کی بندش اور علاج کی ممانعت:
88 دن ہو چکے ہیں جب سے اسرائیل نے تمام بارڈر کراسنگ مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں۔
50000 ٹرک امدادی سامان اور ایندھن لے کر آنے سے روکے گئے۔
* 33 فوڈ کیچن/تکیے اسرائیلی افواج نے جان بوجھ کر نشانہ بنائے تاکہ قحط کی پالیسی نافذ ہو۔
* 44 امدادی و غذائی مراکز کو بھی بمباری سے تباہ کیا گیا۔
70000 بچے شدید غذائی قلت اور بھوک کی وجہ سے موت کے دہانے پر ہیں۔
* 22000 مریض بیرونِ ملک علاج کے مستحق ہیں لیکن اسرائیل انہیں سفر سے روکے ہوئے ہے۔
14000 سے زائد مریض علاج کی منظوری کے بعد اسرائیلی اجازت کے منتظر ہیں۔
12500 کینسر کے مریض موت کے قریب ہیں، فوری علاج درکار ہے۔
350000 دائمی مریض خطرے میں ہیں کیونکہ اسرائیل ادویات کی رسائی سے روک رہا ہے۔
3000 مختلف نوعیت کے مریض بیرونِ ملک علاج کے لیے منتظر ہیں۔
60000 کے قریب حاملہ خواتین خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ ان کو طبی سہولیات میسر نہیں۔
نویں شق: بنیادی ڈھانچہ اور عوامی سہولیات:
719 پانی کے کنویں تباہ کر دیے گئے اور انہیں خدمت سے باہر کر دیا گیا۔
3780 کلومیٹر بجلی کی ترسیلی لائنیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔
2105 بجلی کے ہوائی و زمینی ٹرانسفارمرز کو تباہ کر دیا گیا۔
* 1.88 ارب کلو واٹ گھنٹے سے زائد بجلی کی ترسیل غزہ کو جنگ کے دوران سے روک دی گئی۔

 330000 میٹر پانی کی پائپ لائنز کو تباہ کر دیا گیا۔
655000 میٹر سیوریج (گندے پانی کی نکاسی) کی لائنیں بھی تباہ ہو گئیں۔
2.85 ملین میٹر سڑکیں اور گلیاں مکمل طور پر ملبے میں بدل دی گئیں۔
227 سرکاری دفاتر اور ادارے تباہ کیے گئے۔
46 اسپورٹس کمپلیکس، میدان اور جمنازیم کو نشانہ بنایا گیا۔
206 تاریخی و ثقافتی مقامات کو بھی بمباری سے تباہ کر دیا گیا۔
دسویں شق: زراعت، مویشی اور ماہی پروری:
غزہ کے زرعی شعبے کو ہونے والے براہِ راست مالی نقصان کا تخمینہ 2.2 ارب ڈالر سے زائد ہے۔
* 92 فیصد زرعی زمینیں تباہ ہو چکی ہیں، جو کہ مجموعی 178000 دونم (یعنی تقریباً 44000 ایکڑ) رقبے پر مشتمل تھیں۔
سبزیوں کے زیرِ کاشت 85000 دونم رقبے میں سے اب صرف 7000 دونم ہی باقی بچا ہے۔
85 فیصد سے زائد گرین ہاؤسز (دھوپ سے بچاؤ والے زرعی شیشے دار ڈھانچے) مکمل تباہ کر دیے گئے ہیں۔
* غزہ کی سبزیوں کی سالانہ پیداوار 405000 ٹن سے کم ہو کر صرف 49000 ٹن رہ گئی ہے۔
ماہی گیری کا شعبہ 100 فیصد تباہ ہو چکا ہے کیونکہ اسرائیلی حملوں نے تمام ساحلی و ماہی گیری کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔

Related Posts