ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اُتار چڑھاؤ، استحکام یا وقتی ریلیف؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے 7 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی کے باعث مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 18 لاکھ ڈالر کی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، 23 مئی 2025 تک سرکاری ذخائر 11 ارب 51 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں، جو رواں مالی سال میں ایک نسبتاً مثبت اشارہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اضافہ ممکنہ طور پر بیرونی قرضوں کی قسطوں، یا کسی متوقع مالی معاونت کے ابتدائی اثرات کی نمائندگی کرتا ہے۔

دوسری طرف، کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 8 کروڑ 13 لاکھ ڈالر کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ سطح 5 ارب 12 کروڑ 7 لاکھ ڈالر پر آ گئی ہے۔ یہ رجحان تجارتی درآمدات میں اضافے یا ممکنہ طور پر مارکیٹ سے ڈالر نکالے جانے کی علامت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کی وجہ سے روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مرکزی اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کو ملا کر مجموعی زرمبادلہ ذخائر 16 ارب 63 کروڑ 67 لاکھ ڈالر تک محدود ہو گئے ہیں، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں ایک کروڑ 18 لاکھ ڈالر کم ہیں۔ یہ کمی وقتی ہو سکتی ہے، لیکن یہ اس بات کا بھی عندیہ دیتی ہے کہ بیرونی مالیاتی دباؤ بدستور موجود ہے۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے مزید فنانسنگ یا رعایتوں کے لیے مذاکرات میں مصروف ہے۔ ایسے میں سرکاری ذخائر میں اضافہ ایک مثبت علامت ضرور ہے، لیکن کمرشل بینکوں کے ذخائر میں مسلسل کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مارکیٹ کا اعتماد ابھی مکمل بحال نہیں ہوا۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر برآمدات میں اضافہ، ترسیلات زر میں تسلسل اور غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول برقرار نہ رکھا گیا تو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں بہتری خوش آئند ہے، لیکن مجموعی ذخائر میں کمی یہ واضح کرتی ہے کہ معاشی استحکام کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیرونی ادائیگیوں، تجارتی خسارے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی جیسے چیلنجز کا منظم حل پیش کریں۔

Related Posts