ترکی میں سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر گرم ہو گیا، جب استنبول میں حزبِ اختلاف کی جماعت “ریپبلکن پیپلز پارٹی” (CHP) کے کئی ارکان کے خلاف گرفتاری کے احکامات جاری کیے گئے۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب استنبول کے میئر اور صدر طیب ایردوان کے بڑے سیاسی مخالف، اکرم امام اولو، پہلے ہی مارچ سے حراست میں ہیں۔
ترک ذرائع کے مطابق، ہفتے کے روز جاری کردہ گرفتاری کے ان تازہ احکامات میں مجموعی طور پر 47 افراد کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 28 کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار شدگان میں سابق رکن پارلیمان، کئی بلدیاتی میئرز اور استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے سینئر افسران شامل ہیں۔ پولیس نے استنبول کے مختلف علاقوں سمیت جنوبی ترکی کے آدانا صوبے میں بھی بلدیاتی اداروں پر چھاپے مارے۔
اکرم امام اولو، جو ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان پر بدعنوانی اور دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، مگر وہ انہیں سیاسی انتقام قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے ترکی بھر میں احتجاجی مظاہروں اور عدالتی نظام پر حکومتی اثرورسوخ کے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
حکومت ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر واضح کر چکی ہے کہ تمام عدالتی کارروائیاں قانون کے مطابق اور بغیر کسی سیاسی مداخلت کے ہو رہی ہیں۔ تاہم، حزبِ اختلاف کا مؤقف ہے کہ یہ گرفتاریاں سیاسی انتقام کا حصہ ہیں، جن کا مقصد آنے والے انتخابات سے قبل اپوزیشن کو کمزور کرنا ہے۔
ترکی کے نجی ٹی وی چینلز کے مطابق CHP نے ان گرفتاریوں کے بعد استنبول میں ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ یورپی ممالک اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے بھی ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، جنہیں وہ جمہوری عمل کے خلاف قرار دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے باوجود، رائے عامہ کے حالیہ جائزے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اکرم امام اولو کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ گرفتاری درحقیقت انہیں سیاسی طور پر مزید طاقتور بنانے کا باعث بن رہی ہے، اور اگر حالات یہی رہے تو وہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں طیب ایردوان کے سب سے مضبوط حریف کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








