کراچی میں انتظامیہ نے کئی مویشی منڈیاں بند کردیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے مختلف علاقوں میں قائم کئی غیرقانونی مویشی منڈیوں کے خلاف انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کر دیا ہے۔ یہ کارروائیاں اتوار کے روز کی گئیں اور اس کا آغاز ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہٰ سلیم کی ہدایت پر ہوا۔

ذرائع کے مطابق، ضلع وسطی میں پیالہ ہوٹل، سیون ڈی اسٹاپ، پیپلز چورنگی، نارتھ ناظم آباد بلاک کے اور بلاک آئی، اور شپ اونر چورنگی جیسے مقامات پر قائم غیرقانونی منڈیاں ختم کر دی گئیں۔ ان غیرقانونی منڈیوں کی شکایات شہریوں کی جانب سے مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔

ڈپٹی کمشنر طحہٰ سلیم نے بتایا کہ کراچی کے کمشنر نے شہر بھر میں غیرقانونی مویشی منڈیوں کے خلاف دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت پولیس کو فوری کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قربانی کے جانوروں کی فروخت کے لیے صرف 14 مقامات پر باضابطہ اجازت دی گئی ہے، ان کے علاوہ کہیں بھی منڈی لگانا خلافِ قانون ہے۔

دوسری جانب، کراچی کے ناردرن بائی پاس پر واقع ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں ملک بھر سے اعلیٰ نسل کے جانور پہنچا دیے گئے ہیں۔ منڈی کا رقبہ تقریباً 1,200 ایکڑ پر مشتمل ہے، جہاں اب تک تین لاکھ سے زائد جانور لائے جا چکے ہیں، اور ایک لاکھ سے زائد قربانی کے جانور فروخت بھی ہو چکے ہیں۔

تاجروں کے مطابق، یہاں ایسے جانور بھی دستیاب ہیں جن کی قیمتیں 10 لاکھ سے 40 لاکھ روپے تک پہنچ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منڈی نہ صرف ملک کی سب سے بڑی بلکہ سب سے مہنگی جانوروں کی منڈی بھی بن چکی ہے۔

منڈی میں جانور لانے والے بیوپاریوں کا تعلق ملتان، ساہیوال، گجرات، اندرونِ سندھ اور بلوچستان جیسے علاقوں سے ہے، جو کراچی کی وسیع منڈی کو زیادہ منافع بخش سمجھتے ہیں۔

Related Posts