پولینڈ سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ سائیکلسٹ پاول مالاشکو نے کراچی سے دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ K2 کے بیس کیمپ تک 47 دن میں سائیکل پر کامیاب سفر مکمل کر لیا۔
یہ سفر 4 اپریل کو کراچی سے شروع ہوا اور 20 مئی کو بیس کیمپ پر اختتام پذیر ہوا، جس میں انہوں نے 3,376 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ پاول نے 3,322 کلومیٹر سائیکل پر جبکہ 54 کلومیٹر پیدل دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سفر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی سفر میں شدید گرمی اور پولیس کی مسلسل نگرانی جیسے چیلنجز پیش آئے، جبکہ خنجراب پاس اور گلگت بلتستان میں بیوروکریسی کے مسائل کا سامنا بھی رہا۔ ایک عدالتی فیصلے کے بعد وہ K2 بیس کیمپ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاول کو اسکردو اور پھر کے-ٹو بیس کیمپ جانے کے لیے گلگت بلتستان کے حکام سے اجازت درکار تھی، لیکن اس دوران ایک عدالتی حکم امتناع کے باعث انہیں پرمٹ جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے بالآخر اجازت حاصل کر لی۔
پاول نے بتایا کہ اس دوران وہ سیاحتی اداروں اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے، تاکہ دیگر بین الاقوامی سیاح بھی پاکستان کی حسین وادیوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے آ سکیں۔
انتظامیہ کی اجازت کے انتظار کے دوران انہوں نے خنجراب پاس تک بھی سائیکلنگ کی، اور یوں وہ پہلے شخص بن گئے جس نے سطح سمندر سے دنیا کے بلند ترین سرحدی مقام تک سائیکل پر سفر مکمل کیا۔
پاول نے اس مہم کو اپنی زندگی کا ایک بدلتا ہوا لمحہ قرار دیا اور کہا کہ یہ تجربہ نہ صرف جسمانی آزمائش تھا بلکہ ایک روحانی اور فکری مہم بھی تھی۔
اس پوری مہم کے دوران پاول مالاشکو نے صرف قدرتی مناظر ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام کی مہمان نوازی، مقامی ثقافت اور قدرتی چیلنجز کا مشاہدہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر ان کے لیے محض جسمانی مشق نہیں بلکہ ایک روحانی اور فکری تجربہ بھی تھا، جس نے ان کی سوچ اور برداشت کو نئی وسعت دی۔
پاول کی اس کامیاب مہم کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی ملی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس جیسے ایڈونچر منصوبوں کو سپورٹ کرے تو پاکستان بین الاقوامی سیاحت کے نقشے پر ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








