سندھ کے ضلع شکارپور کے علاقے دل مہر میں فجر کی نماز کے دوران خوفناک واقعہ پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے مسجد میں گھس کر تین نمازیوں کو اغوا کرلیا۔ بعدازاں، دو افراد کو بے دردی سے قتل جبکہ ایک کو زخمی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔
پولیس کے مطابق اتوار کی صبح فجر کے وقت دل مہر کے علاقے میں واقع ایک مسجد میں مسلح افراد نے زبردستی داخل ہوکر تین افراد کو زبردستی باہر نکالا اور اغوا کرکے لے گئے۔ کچھ دیر بعد دو افراد کی لاشیں اور ایک زخمی شخص برآمد ہوا۔
جاں بحق افراد کی شناخت خان محمد مہر اور عمر مہر کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ تیسرا شخص شدید زخمی ہے جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی تحصیل اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جتوئی اور مہر قبیلوں کے درمیان جاری دیرینہ دشمنی کا تسلسل ہے، جو ماضی میں بھی متعدد جانیں نگل چکی ہے۔ قبائلی تنازعات، خاص طور پر زمین، عزت اور اثر و رسوخ کے معاملات پر، دیہی سندھ میں ایک عام المیہ بن چکے ہیں۔
پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج، مقامی انٹیلی جنس اور قبائلی روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ دیہی سندھ میں قبائلی نظام اور اس سے جڑے خونی تنازعات کی ایک اور مثال ہے۔ ایسے فسادات میں اکثر عدالتی نظام کو نظرانداز کرتے ہوئے بندوق کا سہارا لیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکلتا ہے۔
مقامی عمائدین اور سماجی حلقے بارہا حکومت سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ایسے جھگڑوں کے پائیدار حل کے لیے جرگہ سسٹم میں اصلاحات اور قانونی دائرہ کار میں لانے کے اقدامات کیے جائیں، مگر مؤثر عملدرآمد تاحال نظر نہیں آیا۔
واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ شہریوں نے سیکیورٹی کی کمزوری پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عبادت گاہ جیسے مقدس مقام کی حرمت پامال کرنے والوں کو فوری گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








