عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک معروف مولانا صاحب یہ مؤقف اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ بھینس کی قربانی جائز نہیں۔
یہ ویڈیو کسی مویشی منڈی کی ہے جہاں مولانا صاحب ایک ٹی وی اینکر سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ قربانی صرف آٹھ اقسام کے جانوروں کی ہو سکتی ہے: اونٹ اور اونٹنی، گائے اور بیل، بکرا اور بکری، دنبہ اور بھیڑ۔ ان کے مطابق بھینس ان جانوروں میں شامل نہیں، اس لیے اس کی قربانی قبول نہیں ہوگی۔
اس رائے کو کئی جید علمائے کرام نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھینس فقہی طور پر گائے ہی کی ایک قسم شمار ہوتی ہے اور اس کی قربانی بالکل جائز اور درست ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، اہم بات یہ ہے کہ قربانی کا جانور حلال ہو، بالغ ہو اور شرعی شرائط پر پورا اترتا ہو۔ اس حوالے سے بھینس کسی طور پر گائے سے کم نہیں سمجھی جاتی۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو نے عوام کو الجھن میں ڈال دیا ہے، تاہم علمائے دین نے عوام سے گزارش کی ہے کہ فتویٰ صرف مستند علماء اور اداروں سے حاصل کیا جائے، سنی سنائی باتوں پر عمل نہ کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








