ترکیہ میں عیدالاضحی کے پہلے روز جانوروں کی قربانی کے دوران مختلف حادثات میں مجموعی طور پر 14ہزار 372 افراد زخمی ہو گئے۔
وزیر صحت ڈاکٹر فخرالدین کوجا کے مطابق یہ زخمی افراد ملک بھر کے مختلف اسپتالوں میں لائے گئے جنہیں قربانی کے عمل کے دوران چاقو کے زخم، جانوروں کی مزاحمت اور دیگر تکنیکی خرابیوں کے باعث چوٹیں آئیں۔
ان زخمیوں میں سے کچھ کو معمولی خراشیں آئیں جبکہ کئی افراد کو درمیانے درجے کی یا سنگین چوٹیں لگیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف انقرہ میں 1049، استنبول میں 753 اور قونیہ میں 655 افراد زخمی ہوئے۔
وزیر صحت نے عوام سے اپیل کی کہ وہ عید جیسے مذہبی مواقع پر پیشہ ور قصابوں کی خدمات حاصل کریں تاکہ ہر سال بڑی تعداد میں پیش آنے والے ان حادثات سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عید پر سنتِ ابراہیمیؑ ادا کرنے کے جذبے کے ساتھ ساتھ احتیاط اور سمجھداری بھی ضروری ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہوں، گزشتہ سال 2024 میں بھی عید کے دوران 16000 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
حکومت کی جانب سے ہر سال عید سے قبل آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں جن میں عوام کو قربانی کے عمل میں احتیاط، صفائی اور تربیت یافتہ افراد کی مدد لینے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود کئی لوگ جوش و خروش اور روایتی جذبے میں خود ہی قربانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ اکثر خطرناک نکلتا ہے۔
عیدالاضحی حضرت ابراہیمؑ کی جانب سے اپنے بیٹے کی قربانی کے جذبے کی یادگار ہے، جسے دنیا بھر کے مسلمان جانور قربان کر کے مناتے ہیں، اور اس کا گوشت غریبوں، رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








