وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس دہندگان کے درمیان فرق کو مزید واضح کرنے کے لیے نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات متعارف کرانے جا رہی ہے جس میں ودہولڈنگ ٹیکس کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس ریونیو میں اضافہ اور معیشت کی ڈاکیومنٹیشن کو فروغ دینا ہے۔
روزنامہ بزنس ریکارڈر نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے متعدد تجاویز پیش کی ہیں جن میں نان فائلرز کی جانب سے کی جانے والی نقد رقم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی موجودہ شرح صفراعشاریہ 6 فیصد سے بڑھا کر 1 سے 1اعشاریہ 2 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے۔
یہ تجویز اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد نان فائلرز کے لیے مالی دباؤ میں اضافہ اور فائلرز کے لیے آسانی فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام براہ راست ٹیکس آمدن کا 70 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، جو بالواسطہ سیلز ٹیکس جیسے طریقہ کار سے جمع ہوتا ہے۔
رواں مالی سال میں بھی اسی پر انحصار برقرار رہنے کی توقع ہے جبکہ سودی آمدن پر بھی ٹیکس شرح میں اضافے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
اس کے علاوہ درآمدی اشیاء پر 1اعشاریہ 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سپلائیز، سروسز اور کنٹریکٹ ادائیگیوں پر موجودہ شرحوں میں بھی رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔
یکم جولائی 2025 سے غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس نظام کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر بوجھ میں کمی ہو۔
بالواسطہ ٹیکس کی مد میں حکومت کی جانب سے سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا امکان ہے، جو اس سے قبل مستثنیٰ تھے۔
اسی شرح کو ای کامرس ٹرانزیکشنز پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ان اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جو اس وقت رعایتی یا کم نرخوں پر دستیاب ہیں۔
یہ اقدامات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت آنے والے بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے مؤثر اور سخت فیصلے لینے جا رہی ہے، بالخصوص اُن افراد یا اداروں کے خلاف جو تاحال ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








