ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ایل پی جی کی بلاجواز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اُن کے مطابق اوگرا نے شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے تمام مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سرکاری نرخوں کی پابندی یقینی بنائیں اور مقررہ قیمت سے زائد وصول کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2، 4 اور 6 کلو کے بھرے ہوئے سلنڈر فوری طور پر مارکیٹ میں لائے جائیں تاکہ عام صارفین کو ریلیف مل سکے۔
اوگرا لاہور آفس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ایک پریزنٹیشن میں انکشاف کیا کہ 12 سے 18 جون کے دوران تفتان سرحد کے ذریعے یومیہ اوسطاً 2000 میٹرک ٹن ایل پی جی کی تجارت ہو رہی تھی جبکہ ملکی بندرگاہوں پر بھی وافر اسٹاک موجود ہے اور بحری جہاز گیس کی ترسیل کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
اس کے علاوہ، مقامی سطح پر یومیہ 1100 میٹرک ٹن کی پیداوار جاری ہے جس سے مجموعی دستیابی 2200 میٹرک ٹن یومیہ ہو چکی ہے۔ اس ڈیٹا کی تصدیق پاکستان کسٹمز، سی پورٹ اتھارٹیز اور مقامی پروڈیوسرز کے ذریعے کی گئی ہے۔
ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے دکانوں پر صارفین کو سرکاری نرخوں سے آگاہ کریں اور سابق قیمتیں نافذ کریں۔
مزید یہ کہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے ذریعے قیمتوں کو بڑھانے کی کوششوں کو فوری بند کیا جائے۔ کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے 2، 4، اور 6 کلو کے پری فلڈ سلنڈرز مہیا کریں اور پروڈکٹ کی ترسیل کے لیے باقاعدہ انوائس اور گیٹ پاس کا اجرا بھی لازم ہوگا۔
اوگرا نے اعلان کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مارکیٹ میں مشترکہ معائنوں کا آغاز کیا جائے گا اور جہاں کہیں سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی پائی گئی، وہاں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس کے ابتدائی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ ایل پی جی کی سابق پلانٹ قیمت جو پہلے 3400 سے 3500 روپے فی سلنڈر تھی، اب گھٹ کر 3000 سے 3100 روپے تک آ گئی ہے۔ مارکیٹنگ کمپنیوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں قیمتیں مزید کم ہو سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں 20 جون 2025 کو لاہور آفس میں اوگرا کے ممبر آئل زین العابدین کی صدارت میں ایک اہم فالو اپ میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ میں ایل پی جی کی قیمتوں اور دستیابی کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ مارکیٹ میں گھبراہٹ میں خریداری کا رجحان کم ہو چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








