ٹرمپ کا ایران سے متعلق فیصلہ دو ہفتوں میں متوقع، حملے کا عندیہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Trump says two weeks is 'maximum' for Iran decision
(فوٹو؛ فائل)

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فضائی حملے سے بچنے کے لیے تہران کے پاس صرف دو ہفتے کا وقت ہے اور یہ بھی زیادہ سے زیادہ مدت ہے، انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ اس مدت سے پہلے ہی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کو ایران پر حملہ کرنے سے روکنے کے حق میں نہیں کیونکہ وہ جیت رہا ہے اور انہوں نے یورپی ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے انہیں ایک مدت دی ہے اور میرا خیال ہے کہ دو ہفتے زیادہ سے زیادہ ہوں گے۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ لوگ عقل سے کام لیتے ہیں یا نہیں۔

ٹرمپ نے ایک روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں فیصلہ کریں گے کہ آیا ایران کے خلاف کارروائی کی جائے یا نہیں کیونکہ ان کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات موجود ہیں۔

ان بیانات کو عالمی سطح پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک دو ہفتے کی سفارتی مہلت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جس کے بعد یورپی طاقتیں فوری طور پر تہران سے مذاکرات کے لیے متحرک ہو گئی تھیں۔

تازہ بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کی بندش کے حوالے سے پیش رفت نہ ہوئی تو ٹرمپ اس مہلت سے پہلے ہی کوئی سخت فیصلہ لے سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے جنیوا میں ایران کے وزیر خارجہ عباس اراگچی اور یورپی ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو بھی غیر مؤثر قرار دیا۔

انہوں نے نیو جرسی کے شہر مورس ٹاؤن میں اپنے گولف کلب میں فنڈ ریزنگ ڈنر سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے (یورپی ممالک) کوئی مدد نہیں کی۔ ایران یورپ سے بات نہیں کرنا چاہتا، وہ ہم سے بات کرنا چاہتا ہے۔ یورپ اس میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ جب تک اسرائیل اپنے حملے بند نہیں کرتا، ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسا مطالبہ کرنا بہت مشکل ہے۔ اگر کوئی جیت رہا ہو تو ایسے وقت میں بات چیت کا کہنا مزید مشکل ہو جاتا ہے لیکن ہم تیار بااختیار اور متحرک ہیں۔ ہم ایران سے بات بھی کر رہے ہیں، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران چند ہفتوں میں جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، حالانکہ ان کے اپنے انٹیلی جنس ادارے اس بات پر متفق نہیں۔

Related Posts