راولپنڈی کے نواحی علاقے چنگا میرا میں ایک سنسنی خیز اور ناقابلِ یقین واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں رات کی تاریکی میں قبر کھود کر ایک متوفی بزرگ کی میت کو نکال کر دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کا انکشاف اُس وقت ہوا جب متوفی محمد اشفاق کے عزیز کامران ساجد کو ایک مقامی شخص محمد نذیر نے اطلاع دی کہ اُن کے سسر کے بھائی کی قبر کو رات کے وقت نامعلوم افراد نے کھود کر لاش نکال لی ہے۔
کامران کے مطابق جب وہ موقع پر پہنچے تو قبر خالی تھی اور گاؤں والوں نے بتایا کہ یہ کارروائی حنیف، اختر، عمران اور دیگر نامعلوم افراد نے کی، جو لاش کو تقریباً 100 میٹر دور لے جا کر دوبارہ دفن کر چکے تھے۔
متوفی محمد اشفاق، جنہیں تین مارچ کو دفنایا گیا تھا، ایک سادہ دل اور فقیر منش شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔
مدعی کے مطابق، مرکزی ملزم حنیف ماضی میں یہ اعلان کر چکا تھا کہ وہ محمد اشفاق کا دربار بنانا چاہتا ہے اور بظاہر یہی مقصد قبر کشائی کے پسِ منظر میں کارفرما تھا۔
واقعے کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی، شواہد اکٹھے کیے گئے اور دفعہ 297 (قبر کی بے حرمتی) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ایس پی صدر نبیل کھوکھر کے مطابق، مرکزی ملزم حنیف حنفی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جب کہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔
ورثا کی درخواست پر عدالت سے اجازت لے کر میت کو دوبارہ اصل قبر میں دفن کر دیا گیا ہے، جب کہ پولیس اس انتہائی حساس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔
ایس پی صدر کا کہنا ہے کہ یہ ایک سنگین نوعیت کا معاملہ ہے جو نہ صرف قانون بلکہ سماجی و مذہبی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے ہم تمام ذمہ داران کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








