ایرانی سپریم لیڈر کے ممکنہ جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو این ڈی ٹی وی

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسرائیلی حملوں میں اپنی موت کے خدشے پر ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے بیٹے سمیت تین سینئر علماء کو اپنا ممکنہ جانشین مقرر کر دیا ہے۔
سید علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشینوں میں سے ان کے بیٹے مجتبٰی خامنہ ای کا اثر و رسوخ ایران کی حکومت، سلامتی کے امور اور مذہبی قیادت میں سب سے زیادہ بتایا جاتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ زیادہ مرکزی کردار سنبھالنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای صرف مذہبی تقرریوں سے ہی مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کی باضابطہ طور پر ایک نئی ملٹری چین آف کمانڈ بھی ترتیب دے دی ہے۔

خامنہ ای کہاں رہتے ہیں؟

اطلاعات کے مطابق علی خامنہ ای تہران میں ایک بنکر میں رہتے ہیں، انھوں نے الیکٹرانک مواصلات کا استعمال ترک کر دیا ہے تاکہ ان کے مقام کی شناخت نہ ہو سکے، آلات کے بجائے وہ اپنے مشیروں کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے اور ایران کی سیاسی قیادت سمیت سپریم لیڈر اور ان کے بیٹے کے خاتمے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای 36 سال سے اس عہدے پر فائز ہیں  اور انہیں ایران اور دنیا بھر کی اہل تشیع کمیونٹی میں رہبر معظم کہا جاتا ہے۔

مجبتی خامنہ ای کے بارے میں

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ‌ای ایران کے موجودہ سپریم لیڈر آیت‌الله علی خامنہ‌ای کے چار بیٹوں میں سے دوسرے نمبر کے بیٹے ہیں، ان کی دو بہنیں بھی ہیں۔

مجبتی 1969 میں مشہد میں پیدا ہوئے اور قم کے حوزہ علمیہ میں دینی تعلیم حاصل کی۔ مجتبیٰ خامنہ‌ای نہ صرف ایک عالم دین ہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی بااثر سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایران عراق جنگ میں بسیج (داخلی سیکورٹی فورس) کے ذریعے شرکت کی اور بعد ازاں سپریم لیڈر کے دفتر اور پاسداران انقلاب میں گہرا اثر و نفوذ پیدا کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد حکومت مخالف مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں ان کا کردار نمایاں رہا۔ وہ خاموش لیکن طاقتور شخصیت سمجھے جاتے ہیں، جن کے ہاتھ میں سیاسی فیصلوں کی ڈور کا بڑا حصہ ہے۔

اگرچہ وہ باضابطہ کسی عہدے پر فائز نہیں، تاہم سپریم لیڈر کے ممکنہ جانشین کے طور پر ان کا نام بارہا سامنے آ چکا ہے۔ ان کا اثر و رسوخ ایران کی مذہبی، عسکری اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ میں دور رس ہے۔

Related Posts