ایرانی حملوں نے اسرائیلی معیشت کا کچومر نکال دیا، صہیونی ریاست عربوں سے مدد مانگنے لگی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عالمی میڈیا

اسرائیل کو ایران کے ساتھ جاری براہِ راست جنگ کے صرف ایک ہفتے میں شدید مالیاتی بحران کا سامنا ہے۔

عبرانی اخبار “کالکاليست” کے مطابق اسرائیلی محکمہ ٹیکس کی “ہیئتِ معاوضات” کو اب تک 30,735 مالی معاوضے کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جو اس مختصر دورانیے کی جنگ کے تناظر میں غیر معمولی اور چونکا دینے والا عدد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق: 25,000 درخواستیں عمارات و گھروں کو پہنچنے والے نقصان پر، 2,600 گاڑیوں کے نقصانات پر اور3,000 گھریلو سامان یا دیگر املاک کے نقصانات کے لیے دائر کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار آج ہفتہ کی صبح 10 بجے تک کے ہیں اور اس میں صبح بئر السبع کی ایک رہائشی عمارت پر ہونے والے حملہ شامل نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
وسیع پیمانے پر انخلاء:
کالکاليست کے مطابق، اب تک 8,200 افراد بے گھرو ہوچکے ہیں، جن میں سے 3,000 افراد کو صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں بے گھر کیا گیا۔ ان افراد کو عارضی طور پر ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے اور حکومت نے ان کی رہائش کی مدت 7 دن سے بڑھا کر 14 دن کر دی ہے۔
فوری معاوضے کا نظام بھی دباؤ میں:
محکمہ ٹیکس نے “فوری معاوضے” کا طریقہ کار بڑھا دیا ہے، جس کے تحت ایسے نقصانات کے لیے، جن کی مالیت 30,000 شیکل (تقریباً 8,600 ڈالر) تک ہو، آن لائن دعوے کیے جا سکتے ہیں بغیر کسی ماہر کے جائزے کے۔ دعویدار کو بل جمع کروانے پر ایک ہفتے میں ادائیگی کی جاتی ہے۔ اس بار یہ سہولت تجارتی اداروں کے لیے بھی کھول دی گئی ہے۔
جنگِ غزہ سے بھی زیادہ نقصان:
کالکاليست نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے لے کر ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے تک، اسرائیل کو 75 ہزار معاوضہ دعوے موصول ہوئے تھے۔ جبکہ ایران کے ساتھ جنگ کے صرف ایک ہفتے میں اس کا 40 فیصد یعنی 30 ہزار سے زائد دعوے موصول ہو چکے ہیں، جو اندرونِ ملک شدید تباہی کا ثبوت ہے۔
خزانہ جنگی اخراجات کے بوجھ تلے دب گیا:
اقتصادی اخبار “گلوبس” کے مطابق، اسرائیلی وزارت خزانہ کے مالی ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کے اخراجات روزانہ ایک ارب شیکل (تقریباً 300 ملین ڈالر) تک پہنچ چکے ہیں۔
نئی رقوم کی فوری طلب:
وزارتِ خزانہ نے کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی مالیاتی کمیٹی سے 3 ارب شیکل (860 ملین ڈالر) کی منظوری مانگی ہے تاکہ بلائے گئے ریزرو فوجیوں کی تنخواہیں دی جا سکیں۔ مزید 700 ملین شیکل (200 ملین ڈالر) کی اضافی رقم “خفیہ سیکورٹی اخراجات” کے تحت مانگی گئی ہے، جو دیگر وزارتوں کے بجٹ میں سے کاٹ کر فراہم کی جائے گی۔
پرانے ذخائر پہلے ہی ختم:
گلوبس نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے پہلے ہی 10 ارب شیکل (2.9 ارب ڈالر) دفاعی ذخائر کے طور پر مختص کیے تھے، جو غزہ کی جنگ میں 450,000 ریزرو فوجیوں کے اخراجات میں ختم ہو چکے تھے، یعنی ایران سے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی خزانہ خالی ہو چکا تھا۔
بجٹ میں بڑی ترامیم کی تیاری:
اسرائیلی حکومت اب وفاقی بجٹ دوبارہ کھولنے اور اخراجات کی حد بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے، جو ایک پیچیدہ پارلیمانی عمل ہے۔ فی الحال وزارتِ خزانہ “عارضی داخلی تبادلوں” کے ذریعے چند دن کی مہلت نکال رہی ہے۔
دفاعی اخراجات حد سے تجاوز کر چکے:
گلوبس کے مطابق، وزارتِ دفاع پہلے ہی اپنی مقررہ بجٹ حد سے 20 ارب شیکل تجاوز کر چکی ہے۔ روزانہ ایک ارب شیکل کے نئے اخراجات کے ساتھ، موجودہ مالی مدد اس خلا کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
ممکنہ سماجی بحران کی وارننگ:
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو اسرائیل کو اندرونی و بیرونی قرضے لینے پڑیں گے، نئی ٹیکس پالیسیاں لانا ہوں گی اور تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر کے شعبوں میں شدید کٹوتیاں کرنی ہوں گی، جس کے نتیجے میں ایک سنگین معاشی و سماجی بحران جنم لے سکتا ہے۔ کالکاليست نے خبردار کیا کہ “ایک ہفتے میں موصول ہونے والی معاوضہ درخواستیں ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل کو اندرون ملک کتنی سخت ضرب لگی ہے۔” جبکہ “گلوبس” نے لکھا “وزارتِ خزانہ ایک ایسی جنگی مالیاتی بحران کا سامنا کر رہی ہے جس کے پیچھے کوئی پائیدار منصوبہ نہیں۔ آئندہ فیصلے شاید معاشی نہیں، بلکہ سیاسی ہوں گے۔”
خلیجی ممالک اخراجات برداشت کریں:
اسرائیلی وزیر خزانہ نے خلیجی ممالک سے جنگی اخراجات میں شراکت کا مطالبہ کیا ہے۔ بیزلیل اسموٹریچ نے خلیجی ممالک کے ساتھ ساتھ جرمن، برطانوی اور فرانسیسی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے اخراجات کا حصہ ادا کریں، جیسے دفاعی میزائلوں اور دیگر آپریشنز کے خرچ۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیل روزانہ 2 سو ملین امریکی ڈالر صرف “آئرن ڈوم” جیسے دفاعی نظام پر خرچ کرتا ہے۔ اسموٹریچ نے ان ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “خلیجی ممالک، جو ٹریلین ڈالر کما رہے ہیں … جنگ کے اخراجات میں کم از کم معاشی طور پر حصہ لیں گے”۔

Related Posts