خطے میں کون کونسے امریکی اڈے ایران کے نشانے پر ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو الجزیرہ

ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں کے آغاز کے بعد ہر طرف یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ خطے میں کون کونسے امریکی اڈے ایرانی حملوں کے نشانے پر ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کئی ممالک میں فوجی اڈے (military bases) موجود ہیں، جنہیں وہ عسکری تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی استحکام اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ذیل میں ہم تفصیل سے بتائیں گے کہ کن کن ممالک میں امریکا کے معروف فوجی اڈے یا مستقل موجودگی ہے۔

قطر

العديد ایئر بیس (Al Udeid Air Base): امریکی فضائیہ کا سب سے بڑا اڈہ مشرق وسطیٰ میں۔ سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی سرگرمیوں کا مرکز۔

کویت

کئی فوجی اڈے، جن میں کیمپ عریفجان (Camp Arifjan) اہم ہے۔

عراق و افغانستان جنگوں کے دوران بنیادی لاجسٹک اور سپورٹ سینٹر رہا ہے۔

بحرین

بحرین میں امریکی نیوی کا ففتھ فلیٹ (U.S. Navy Fifth Fleet) موجود ہے۔

امریکا کے بحری مفادات کے لیے نہایت اہم۔

سعودی عرب

پرنس سلطان ایئر بیس (Prince Sultan Air Base)

کچھ عرصہ بند رہنے کے بعد 2019 میں دوبارہ امریکی فورسز نے یہاں موجودگی بڑھائی۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای)

الظفرہ ایئر بیس (Al Dhafra Air Base): امریکی اور فرانسیسی فضائیہ یہاں تعینات ہیں۔

امریکہ کے F-22 اور دیگر جنگی طیارے یہاں سے آپریٹ کرتے ہیں۔

عراق

مختلف اڈے، جن میں عین الاسد ایئر بیس (Ain al-Asad) اور اربیل میں موجودگی شامل ہے۔

داعش کے خلاف آپریشنز کے لیے اہم کردار رہا۔

اردن

مختلف خفیہ اور علانیہ اڈے، جنہیں انسداد دہشت گردی اور تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ترکی

انجرلک ایئر بیس (Incirlik Air Base): نیٹو اور امریکی فضائی آپریشنز کا اہم مرکز۔

یہاں امریکی نیوکلیئر ہتھیاروں کی موجودگی کے شواہد بھی ہیں۔

عمان

مختلف فضائی پٹیاں اور بندرگاہیں امریکی فوج کے لیے دستیاب ہیں، خصوصاً خلیج فارس اور ہرمز آبنائے کے تناظر میں۔

یہ تمام اڈے امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات، ایران کی نگرانی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور خلیجی اتحادیوں کی حمایت کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

جنگ کا دائرہ پھیلنے کی صورت میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ تمام امریکی اڈے ایرانی میزائل حملوں کا ہدف بنیں گے۔

Related Posts