ایران اور اسرائیل کے مابین جاری جنگ کے گیارہویں دن ایرانی مسلح افواج نے امریکہ پر جوابی حملے کا آغاز کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق “بشارۃ الفتح” کے نام سے جاری اس مہم کے تحت پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے مشترکہ طور پر قطر اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا کہ یہ کارروائی امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے جس میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے صبح کے وقت اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو اپنے حملے کا لازماً جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ متعدد ایرانی میزائلوں نے “العديد” امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، مگر قطری فضائی دفاع نے انہیں کامیابی سے روک دیا۔ وزارت کے مطابق: “اللہ کے فضل اور مسلح افواج کی بروقت کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔”
قطر کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قطر کی خودمختاری، فضائی حدود اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قطر نے واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اس حملے کا موزوں اور براہِ راست جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ نے مزید بتایا کہ ایئر ڈیفنس سسٹم نے ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے روکا اور حملے کی مکمل تفصیلات پر مشتمل باضابطہ بیان جلد جاری کیا جائے گا۔ قطر نے خبردار کیا کہ اس قسم کی عسکری جارحیت خطے کے امن و استحکام کو تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ وزارت نے تمام فریقین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی میز پر سنجیدگی سے واپسی کا مطالبہ کیا۔ قطری حکام نے بتایا کہ العديد ایئر بیس کو پیشگی سیکورٹی اور احتیاطی اقدامات کے تحت خالی کرا لیا گیا تھا اور قطری و اتحادی افواج کے تمام اہلکار محفوظ ہیں۔
ایرانی فوج کے سربراہ جنرل امیر حاتمی نے بھی امریکہ کو “فیصلہ کن” ردعمل کی دھمکی دی۔ ایران کے “خاتم الانبیاء” مرکزی کمان کے ترجمان نے کہا: “امریکہ نے جنگ شروع کی ہے، لیکن اسے ختم ہم کریں گے۔” اسی تناظر میں، ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کونسل کے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان پر امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا کہ: “آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایران کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگا۔”
امریکی دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ العديد بیس پر ایرانی میزائل حملہ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک اعلیٰ امریکی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ قطر میں واقع امریکی فضائی اڈہ “العديد” ایران سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنا۔ حملے میں چھوٹے اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے۔ اس نے مزید کہا: “ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حملہ ایران کی سرزمین سے کیا گیا۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔”
این بی سی کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے قطر کے بعد بحرین اور عراق میں امریکی اڈوں پر ممکنہ جوابی حملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ “این بی سی” نے وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے بحرین اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ممکنہ جوابی کارروائی کے امکانات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی سیکورٹی ٹیم اس وقت تمام حساس تنصیبات اور مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے انتہائی چوکس ہے اور صدر ٹرمپ کو لمحہ بہ لمحہ بریفنگ دی جا رہی ہے۔
درایں اثنا کویت، بحرین اور عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کویتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ علاقائی صورت حال میں اچانک کشیدگی کے پیشِ نظر تمام روانگی کی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ کویتی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو احتیاطی اقدام قرار دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ الجزیرہ نے عراقی سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ عراق کے مغربی علاقے میں قائم امریکی فوجی اڈہ “عین الاسد” میں خطرات کے باعث ہائی الرٹ ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ اڈہ ممکنہ حملے کا ہدف بن سکتا ہے۔
الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے کہا: ہم ایرانی میزائل حملے کی اطلاعات سے آگاہ ہیں، جس میں قطر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ابھی تک وہاں امریکی افواج کو کسی قسم کا جانی نقصان نہیں پہنچا۔ ہماری فورسز نے ایرانی حملوں کے خدشے کے پیش نظر پیشگی دفاعی اقدامات اٹھا رکھے تھے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ امریکی حکام کا اصرار ہے کہ ان کے فوجی اڈے مکمل حفاظتی تیاریوں کے ساتھ فعال ہیں اور کسی بھی ممکنہ حملے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ قطر میں مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی فوجی اڈا ہے۔ “العدید ایئر بیس” جو نہ صرف خطے میں بلکہ وسطی کمانڈ (CENTCOM) کا اہم مرکز بھی ہے۔ یہ ایئر بیس دوحہ کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہاں 10 ہزار کے قریب امریکی فوجی ہوتے ہیں، جو فضائی کارروائیوں، نگرانی اور امداد کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ اب سے کچھ دیر قبل ایران نے اس بیس پر 6 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ جن میں بیشتر کے فضا میں ہی تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ قطری حکومت نے اپنی فضائی حدود پہلے ہی بند کر دی تھیں۔ جبکہ حالیہ تناؤ اور حملوں کے خطرے کے پیش نظر امریکا نے پہلے ہی یہ اڈا خالی کر دیا تھا۔ 19 جون کو 40 سے زائد طیارے اس بیس سے ہٹا دیئے گئے، جیسا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا، بعض تصاویر میں صرف 3 طیارے باقی تھے، باقی دیگر جگہ منتقل ہو گئے۔ اس اقدام کا مقصد ممکنہ ایرانی حملوں سے طیاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








